جو معاشرے اظہار رائے کی آزادی کو دباتے ہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے پی ٹی اے سوشل میڈیا رولز کے خلاف درخواست پروفاق اور پی ٹی اے کو جواب کیلئے نوٹس جاری کردیے۔گذشتہ روز سماعت کے دوران پی ٹی اے کی جانب سے احمر بلال صوفی عدالت پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار وکیل جہانگیر جدون نے کہاکہ سوشل میڈیا رولز کو آئین کے مطابق پرکھ کر چیلنج کیا گیا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ آزادی اظہار رائے نہایت ضروری ہے،جو معاشرے اظہار رائے کی آزادی کو دباتے ہیں وہ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں،عدالت آرڈر میں لکھ چکی ہے کہ پریس فریڈم پر قدغن کا تاثر بھی نہیں ہونا چاہئے،یہ مفاد عامہ کا کیس ہے، جن معاشروں میں اظہار رائے اے روکا گیا انہوں نے ترقی نہیں کی،سوشل میڈیا رولز بامعنی ڈائیلاگ کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو بھجوائیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ رولز کو اتنا وسیع کر دیا کہ اگر سرکاری ملازم پر بھی تنقید کی گئی تو اختیار کا غلط استعمال ہو سکتا ہے،آئین کے آرٹیکل 19 اور 19اے کی خلاف ورزی تو نہیں کی جا سکتی،ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہاکہ اٹارنی جنرل خود پیش ہو کر دلائل دینا چاہتے ہیں کچھ مہلت دی جائے، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئیکہاکہ آپ نے بتانا ہے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کون ہیں؟ کیا ان کے ساتھ مشاورت ہوئی؟جہاں آزادی اظہار رائے کو دبایا جاتا ہے وہ ممالک اقتصادی لحاظ سے پیچھے چلے جاتے ہیں، عدالت نے کہاکہ جو رولز بنائے گئے اس میں اختیارات کا غلط استعمال بھی نہیں ہونا چاہیے،آپ نے جو رولز بنائے ہیں وہ آپ ان تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھیجوا دیں،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں