مولانا فضل الرحمن نے موروثی سیاست، جھوٹ اور کرپشن سے جماعت کو نقصان پہنچایا، مولانا لونی
اسلام آباد :جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے سینئر نائب امیر مولانا عبدالقادر لونی نے مرکزی جنرل سیکرٹری حضرت مولنا مفتی شفیع الدین مرکزی سیکرٹری اطلاعات سیدحاجی عبدالستار شاہ چشتی امیر اسلام آباد حافظ خیر محمد قاضی شمس الحق مرکزی نائب امیر مولنا عبدالروف مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ مرکزی صدر عبدالرحیم صبا موجود کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان ملک کے ایک بڑی سیاسی ومذہبی جماعت ہے جو2008 سے باقاعدہ جمعیت (ف) سے راستہ الگ کرکے ملک میں عملی سیاست کآغاز کیا 1988 سے مولنا فضل الرحمن نے مورثی سیاست، جھوٹ اور کرپشن سے اکابرین کے جماعت کو بدنام کیا اسلام کے مقدس نام اور اکابرین کے پاک جماعت کوہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کئے جماعت کواپناجاگیر سمجھ کرسوداباذی کرکے اصولوں اور دستور کو پامال کئے ہم نے جماعت کو کرپشن، خیانت اور جھوٹ سے بچانے کے لیے جماعت کی اداروں میں بیس سال کوشش کی لیکن فضل الرحمن کرپشن، خیانت اور جھوٹ سے باز نہ آنے پر ہم نے راستہ الگ کرکے نظریاتی جماعت تشکیل دیا اور آج ملک میں ایک بڑی قوت بن کر ابھری ہے اور سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بڑے بڑے اکابر نے ہماری ساتھ شمولیت کی اور ملک بھر میں تین دفعہ رکن سازی بھی کی اب بھی چاروں صوبوں کے امرا اور نظما کااعلان کیاجمعیت علما اسلام نظریاتی نے ہمیشہ اصولی سیاست کی جمعیت نظریاتی کاسیاست اس ملک میں امتیاز رہا ہے کہ اقتدار اور مفادات کا حصول کبھی ہدف نہیں رہا.عوام کے حقوق کی حصول،ظلم وستم جبر اور ناانصافیوں کے خلاف ہر فورم پرآواز بلند کی انھوں نیکہاکہ ملک اس وقت انتشار وافراتفری کی متحمل نہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے پانچ سال پورے کئیے اور اب عوام کے دئیے ہوئے مینڈیٹ کے مطابق تحریک انصاف کو بھی پانچ سال پورے کرے دیں اور اپوزیشن پانچ سال انتظار کرے اگر ایک دوسر کے گرانے کاسلسہ جاری رہا تو پھر اس ملک کی جمہوریت کاخدا حافظ. حکومت گرانا کسی مسئلے کاحل نہیں جمہوری استحکام کے لیے پارلیمنٹ کو تعمیری ایجنڈوں سے چلائے یہ حسن جمہوریت ہیانھوں نیکہاکہ پی ڈی ایم کے جلسے، لانگ مارچ اور دھرنے نہ نظریات کی جنگ ہے، نہ جمہوریت اور نہ بحرانوں سے نجات کاجنگ ہیصرف حصول اقتدار اور موروثی سیاست کے دوام کی خواہش کارفرما ہیقوم کو ایک سراب کے پیچھے لگانے کی کوشش کررہے ہیں جمہوریت کے نام پرتماشہ اور سرکس لگانے سے پارلیمانی نظام کے خلاف بغاوت،آئین اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی سازشوں میں مصروف ہے انھوں نیکہاکہ مولانا فضل الرحمن اجرتی سیاست دان ہے جوہمیشہ کارکنوں کو اسلام اور ختم نبوت کے نام پر بہکا کر چوروں کی دفاع میں استعمال کیا جارہاہے.زرداری اور نواز کیاین آر او لینیکے لیے وکیل بن چکا ہیمولنا فضل الرحمن آئین اوراصول کی جنگ نہیں بلکہ صرف حصول اقتدار کی جنگ لڑرہی ہے ہے ۔جہاں اجرت زیادہ ملتی ہے اس کے دفاع میں تھک کر ہار جاتا ہے سی پیک کے مغربی روٹ پر محمودخان اچگزئی اور فضل الرحمن کے سودا بازیاں اور فاٹا انضمام کی مخالفت قوم بھول چکے ہیں انھوں نیکہاکہ موروثی سیاست کے علمبردار سیاستدانوں کی دوسری اور تیسری نسل اپنی بدعنوانیوں، منی لانڈرنگ، احتساب سے بچنے اور این آر او لینے کیلئے قومی اداروں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے ماضی میں ان ڈاکومومنٹ نے ملک کی خزانوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹ کر قوم کی چمڑہ اتاڑ دئیے غیرسنجیدگی اور غیرآئینی اقدامات سیملک وقوم مشکلات و مسائل کی دلدل میں مزید دھنسنے کی کوشش کررہے ہیں مورثی سیاست دکیسیاسی بقا خطرے میں ہے اب اپنے سیاسی ساکھ بچانے اوراپنے کرپشن کاپیسہ چھپانے کیلئے ڈرامے رچا رہے ہیں پی ڈی ایم دھاڑیں تو مار سکتے ہیں لیکن پاور گیم سے آوٹ ہوتے جا رہے ہیں۔ نان ایشوز کو ایشو بناکر اس پر اپنی سیاست کو چمکانے کی کوشش کررہے ہیں انھوں نیکہاکہ پی ڈی ایم کیجلسوں میں مسلسل منظم منصوبہ بندی کے تحت ملک کے سلامتی اور یکجہتی کے خلاف پلاننگ ہے اقوام کو غداری اور بے غیرت کے طعنے دینے سے لسانی اورنسلی تفریق کو ابھارا جا رہا ہے پی ڈی ایم کی جلسوں میں قومیت اور لسانیت کی عصبیت ملک وقوم کی وحدت و یکجہتی کے لیے زہر قاتل ہے۔ محمود اچگزئی لاہوریوں کو طعنے تودے رہے ہیں کیاقوم بھول چکے ہیں کہ جب روس نے افغانستان پر یلغار کی تو ان قوم پرست جماعتوں نے روس کا ساتھ دیے کر بیس لاکھ پشتونوں کی خون بہائے گئے اور پھر امریکہ بشمول نیٹو افغانستان پر یلغار کی تو ان جماعتوں نے امریکہ کو نہ صرف ویلکم کہا بلکہ فاٹا اور بلوچستان میں ڈرون حملوں کرنے کی دعوت دے رہے تھیافغان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیااور صرف ڈالروں کی خاطر لاکھوں پختونوں کے خون کا سودا کی اس سیپہلے محمودخان اچگزئی نے کوئٹہ میں بھی نوازشریف کے ساتھ نہ دینے پر اقوام کوبے غیرت کہا اور مولنافضل الرحمن نے بھی خٹک، مروت، بلوچی اور بیٹنی قوموں کو بے غیرت کہا اقتدار کیحرص و ہوس میں پی ڈی ایم کی قیادت ذہنی تنا سے گالی کی سیاست پر اتر رہی ہے انھوں نیکہاکہ پی ڈی ایم کی سٹیج پر قیادت ماضی قریب میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کے ریکارڈ قائم کرچکے ہیں، ایک دوسرے کو گھسیٹنے والوں کا یہ غیر فطری اتحاد اپنے ذاتی مفادات کی حصول کے لیے ہیں عوام اب اپنے ذاتی مفادات کے لئے اکٹھے ہونے والے کے چہروں کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اقتدار کی حصول کیلئے ذہنی دبا کا شکار ہوکرگالیاں دینے پر اتر آیا خٹک، مروت، بنوچی اور بیٹنی ان قوموں کو بے غیرت کہنے کاسرٹیفکٹ کس نے دیا گالیاں سے سیاست کو پرتشدد کی طرف لے جارہا ہے ان کی اصلیت پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکی انہوں نے اپنے جماعتوں میں جمہوریت کاجنازہ نکال دیا ہے اوراپنے جماعتوں کو یرغمال بنادیا ہے جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں نے آئین اور جمہوریت کی دھجیاں اڑا دئیے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی سیاسی محاذ آرائی سیاست اور جمہوریت کیلیینقصان پہنچانے کا موجب بن رہے تھے۔ اپنیذاتی مفادات کے لیے قوم اکسایا جارہا ہیاب ان کا فلسفہ اور نظریہ اقتدار کیحرص و ہوس اور ذاتی مفادات کا حصول ہے قوم کو صرف جھوٹ اور فریب کی نعروں سے ورغلایا جارہا ہے انھوں نیکہاکہ بار بار باریاں لینے والے31 سال اقتدار میں رہے لیکن کرپشن کے علاوہ قوم وملک کے مسائل حل نہیں کئے نوازشریف اور زرداری نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کواین آر او لینیکے وکیل بنایا ہے ان کی سیاست اصولی نہیں حصولی بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولنا فضل الرحمن اتحادوں بننے میں پانی کا بلبلہ رہا ہے ایک دن اتحاد بنادیتے ہیں دوسرے دن توڑ دیتے ہیں ہمیشہ جماعتوں کواپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے ان جماعتوں نے کل تک ایک دوسروں کے قتل اور ایک دوسروں پرالزامات تنقید کرنے والوں کاراستہ جلسوں سے لے کر پارلیمان تک اپنائے رکھا ہواتھا یہاں تک کے جہازوں سے تصویریں پھینکا جارہا تھا پشتون کو پنچاب اور بلوچ سے لڑایااب ایک دوسے کے دفاع میں ایسے معلوم ہورہا ہے کہ ایک ماں نے ان کو جنا ہے استعفوں پر بار بار موقف تبدیل کرنے سے واضح ہوچکا ہیپی ڈی ایم استعفوں کے معاملے پر واضح طور پر تقسیم اوراختلاف ہے کہ اپوزیشن استعفی دینے میں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں جلد یوٹرن لینگے یہ لوگ یوٹرن لینے کے عادی ہیان کا کام یہ بن چکا ہے کہ فریب کے نعروں سے اپنے کارکنوں کو بے وقوف بنانا ووٹ لینا اور اپنے کاروبار چلانا ہے عوام کو اشتعال دلانا کسی طور جمہوریت کی خدمت نہیں باربار چڑھائی کرنے،کارکنوں کو امتحان میں ڈالنے اور سیاسی ماحول پراگندہ کرنا جمہوری رویہ ہرگز نہیں۔ملک میں انتشار اور تصادم کی فضا سے ملک کیسیاسی اورمعاشی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوگے انھوں نیکہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی غیر آئینی اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث پورے خطے کے امن و امان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ بھارت سرجیکل اسٹرائیک سازشوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں بھارت کو منہ توڑجواب دینے کاوقت ہے دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے بھارت نے ہمسایہ ملک میں دہشت گردوں کی تربیت کے لئے متعدد ٹریننگ کیمپ قائم کئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی مداخلت اور جارحیت سیعالمی قوانین کوروندا جارہا ہیمودی سرکار کی سفاکیت ظلم اور جبرکی فیصلوں سینہ صرف مسلمان بلکہ دیگر اقلیتوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں مودی سرکار کے کشمیریوں کینسل در نسل کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کا شرمناک کردار کھل کر بھارت کی حمایت کاثبوت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چرمئین نے امریکہ اور اسرائیل سے وفاداری کی سرٹیفکٹ لینے کے لییاسرائیل کے تسلیم کرنے کاایجنڈااٹھایاان کے احمقانہ سوچ اورذہنیت ملت اور قوم اور قبلہ اول سے غداری کی مترادف ہے ہیاسرائیل کے نرغے میں فقط فلسطینی ہی نہیں بلکہ پوری مسلم امہ آنے کو ہیشام سے لے کر عراق تک اور لیبیا سے لے کر افغانستان تک میں ہونے والی امریکا کی ہر عسکری کاروائی کے اصل ماسٹر مائنڈ اسرائیلی ہی ہیں لیکن مسلم دنیا کے حکمران کو احساس نہیں ملک کی آئین سازی کی تاریخ میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے قبل کسی آئینی ترمیم میں اتنی وسیع اور بنیادی آئینی اصلاحات اور تبدیلیاں نہیں ہوئی تھی اور نہ اس سے قبل چھوٹے صوبوں کوجائز حقوق اور وسائل پراختیارات دئیے۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت متفقہ طور پر صوبوں کو ان کے اختیارات دی گئی اوروفاق کو اور صوبوں کے درمیان پائے جانے والے شکوک و شبہات اورخلیج ختم ہوئی کچھ قوتیں نئے نئے دا آزمائے جارہے ہیں ملک اس وقت انتہائی نازک موڑ پر ہے صوبوں اور مرکز کے مابین اختیار ات و وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو تو صوبوں کی مسائل حل ہوسکتی ہے اور رکاوٹیں دور ہوگی اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمدہونے سیصوبوں میں استحکام،امن و خوشحالی خوشگوار تعلقات استوار کیئے جاسکتے ہیں ماضی میں وفاق کی نظراندازیوں سے بلوچستان 70سال قبل بنیادی سہو لیات سے محروم تھی، آ ج تک محروم ہے آج پسماندگی غربت جہالت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے دنیا کی متاثر خطوں میں شمار کیاجارہا ہے اور قدرتی دولت ساحل وسائل امیر ترین خطہ ہونے کے باوجود یہاں کے عوام دربدرٹھوکریں کھاررہی ہے معدنیات سیندک ریکوڈک اور گوادر کے باوجود بلوچستان میں اب تک نہ کوئی موٹر وے بنا اور نہ کوئی اورنج ٹرین دیا اور اکثر اضلاع آج تک بجلی، گیس اور سڑکوں جیسے بنیادی سہولیات اور ضروریات سے محروم ہے سی پیک سے اس ملک کی تقدیر اس وقت تک بدل نہیں جائے گی۔جب تک منصوبوں میں بلوچستان کوشامل نہ کیا جائے اس میں شک نہیں کہ کسی بھی ملک کے بنیادی صنعتی وسماجی ڈھانچے یا انفراسٹرکچر کی تعمیر،بجلی کی پیداوار یا تعلیم اور علاج کی سہولیات ایک مثبت اقدام ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کو ترجیحات میں شامل کرنے کے بغیر دعوں کے باوجود سی پیک کے مغربی روٹ کے اہم حصوں پر تاحال کام شروع نہیں کیا جا سکا انہوں نے کہا کہ سی پیک جو کہ بلوچستان اور پاکستان کیلئے گیم چینجر کی حیثیت انڈسٹریل زون کے قیام سے ہوگابلوچستان کو زیادہ تر منصوبوں کے افادیت سے محروم کررکھا ہے مہنگائی اور بیروزگاری سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہے چینی اور آٹا اور ضروریاتِ زندگی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ ملک کا ہر طبقہ پریشان حال نظر آرہا ہے حکومت مہنگائی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے محرومیوں اور بیروزگاری کی خاتمے کے وعدوں کوعملی جامہ پہنایا جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 80فیصد عوام کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ زرعی شعبے تباہی کی دہانے پر ہے ہمیشہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے باغات اور فصلیں مکمل طور پرتباہ ہوجاتی ہے حکومت پسماندہ صوبے میں زراعت کے لییاقدامات اٹھائے۔


