مندرمیں سادھو سے ملنے والی خاتون کا ریپ،تشددکرکے قتل کردیاگیا
نئی دہلی :بھارت میں ایک سادھو سے ملنے مندرجانے والی خاتون کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا۔ادھربھارت میں اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کے ایک واقعے پر وومن کمیشن کے متنازعہ بیان پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں 50 سالہ ایک خاتون سادھو سے ملنے مندر گئیں جہاں سادھو نے مبینہ طور پر اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی اور ان پر تشدد کیا، جس سے ان کی موت ہوگئی۔ اس سلسلے میں پولیس نے اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں سادھو سمیت بعض افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔دوسری جانب نیشنل کمیشن فار وومن کی ایک رکن کا کہنا تھا کہ اگر خواتین تنہا باہر جانے سے گریز کریں تو ان کی جان بچ سکتی تھی۔ صورت حال کی سنگینی اور واقعے کے جائزے کے لیے خواتین کے کمیشن نے اپنی ایک رکن چندر مکھی دیوی کو متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے بدایوں بھیجا تھا۔کمیشن کی رکن چندر مکھی نے میڈیا سے بات چیت کے دوران ایک متنازعہ بیان میں کہاکہ ایک خاتون کو وقت کا خیال رکھنا چاہیے اور شام کے وقت اگر اس پر باہر جانے کا دبا ؤبھی ڈالا جائے تو بھی قطعی تنہا باہر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ادھرمتعدد حلقوں کی جانب سے وومن کمیشن کے اس متنازعہ بیان پر یہ کہہ کر سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے کہ ایک عورت کو اپنی مرضی کے مطابق کہیں بھی اور کسی بھی وقت جانے کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ اس کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی سماج اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات نے اس بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔اس طرح کی شدید نکتہ چینی کے بعد خواتین کے قومی کمیشن ریکھا شرما نے وضاحت پیش کی اور کمیشن کی رکن کے متنازعہ بیان سے لا تعلقی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، مجھے نہیں معلوم کہ ہماری ایک رکن نے کیسے اور کیوں اس طرح کی بات کہی لیکن خواتین کو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی وقت کہیں بھی جانے کا حق حاصل ہے۔ یہ سماج اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے تحفظ کا انتظام کرے۔


