پارلیمنٹ قانون بناتی عدلیہ اسکی تشریح کرتی ہیسپریم کورت کے بعد کوئی اپیلٹ فورم موجود نہیں، عدالت عظمیٰ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ قانون بناتی عدلیہ اسکی تشریح کرتی ہے، عدالت کی تشریح کے تو سب پابند ہوں گے۔ سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا متعدد مرتبہ سپریم کورٹ سیاسی معاملات کی تشریح کر چکی ہے، عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ کس طرح آرٹیکل دو سو چھبیس کی تشریح کرتی ہے۔ جسٹس یحیی آفریدی نے کہا سپریم کورٹ کے بعد کوئی اپیلٹ فورم موجود نہیں ہے، عدالت کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس تین مختلف طرح کے اختیارات ہیں۔ سپریم کورٹ صدر کے ریفرنس پر مشورہ اور گائیڈ لائن بھی دے سکتی ہے۔ اوپن بیلٹ کے لیے آرٹیکل 226 میں ترمیم ضروری ہے۔ سپریم کورٹ اپیلٹ فورم کے ساتھ آئینی عدالت بھی ہے، امریکی سپریم کورٹ کے پاس ریفرنس پر رائے دینے کا اختیار نہیں ہے۔ حسبہ بل کیس میں عدالت کی رائے حتمی تھی۔ خالد جاوید خان نے کہا کہ عدالت نے کبھی سیاسی معاملات میں بات نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا تھا۔ ہٹلر بھی منتخب نمائندہ تھا۔ کل کو کوئی آکر خود کو خلیفہ کہے تو عدالت اجازت نہیں دے گی، عدالت نے صدر کو ا سمبلی توڑنے کا اختیار دیا تھا۔ نواز شریف کیس میں عدالت نے اسمبلی تحلیل کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں