کمیٹی رپورٹ آنے تک سی اینڈ ڈبلیوملازمین کو بحال کیا جائے، ثناء بلوچ
کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر برائے محکمہ تعمیرات ومواصلات کی توجہ سی اینڈ ڈبلیو محکمے کے 361ملازمین کو نکالنے جانے کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہاکہ یہ ملازمین 10سالوں سے محکمہ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کی برطرفی سے صوبے بھر کے ملازمین میں تشویش پائی جارہی ہے،مذکورہ ملازمین کو نکالنے کی وجوہات اور ان کی بحالی سے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔صوبائی وزیر مواصلات وتعمیرات میرمحمدعارف محمد حسنی نے کہاکہ ہماری ہمدردیاں ملازمین کے ساتھ ہیں اگر قانونی طورپر کوئی گنجائش نکلتی ہے تو انہیں بحال کیاجائے گا ان ملازمین کی تعیناتی کے آرڈر جاری کرنے پر تین آفیسران ضمانت پر ہیں،ملازمین بلوچستان ہائی کورٹ میں ری اپیل کرسکتے ہیں ایم پی اے ثناء بلوچ نے کہاکہ دسمبر 2018ء میں بھی ہم نے معاملہ اسمبلی میں اٹھایا تھا جس پر ایوان میں کمیٹی بنائی گئی لہٰذاء میری استدعا ہے کہ اسمبلی کی بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ آنے تک مذکورہ ملازمین کو ان کے عہدوں پر بحال کیاجائے۔اختر حسین لانگو نے کہاکہ یہ ملازمین سروس ٹریبونل سے کیس جیت کرآئے ہیں جس پر اسپیکر نے پیر کے روز چیف سیکرٹری بلوچستان،سیکرٹری تعمیرات ومواصلات اور کمیٹی ممبران کااجلاس طلب کرتے ہوئے رولنگ دی کہ ڈاکومنٹس کا جائزہ بھی لیاجائے گابلکہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جائیگی یہ بہت بڑا مسئلہ ہے 361لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں


