کسی بھی جج کے آئینی اختیارات کو کوئی سلب کرنے کا حق نہیں رکھتا، بلوچستان بار کونسل

کوئٹہ:پاکستان بار کونسل کے رکن وبلوچستان بار کونسل وائس چیئرمین و اراکین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ایک بنچ کی جانب سے گذشتہ روز اپنے ایک ہم مرتبہ جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور وزیراعظم عمران خان کو باہم فریق گرداننا اور ان کو عمران خان کے بارے مقدمات کی شنوائی سے باز رکھنا آئین و قانون و اخلاقیات اور مراتب کے اصولوں کے منافی ہے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پاکستان کے دس رکنی بنچ نے متفقہ طور پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف بدنیتی پر مبنی عمران خان اور انکی حکومت کے دائر کردہ ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا ہے اب قاضی فائز عیسیٰ و حکومت کے مابین کوئی معاملہ و تنازعہ وجود نہیں رکھتا اس کے باوجود عدالت عظمی کے بنچ کی جانب سے بے بنیاد مفروضوں کی بنا پر اپنے معزز ساتھی جج کی دیانت و حلف کی پاسداری اور بلا امتیاز انصاف میں ان کے کردار پر انگشت نمائی کرنا ان کے اپنے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کوئی بھی ہم پلہ شخص اپنے ہم مرتبہ شخص کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کا مجاز نہیں ہے اور نہ وہ کسی کو پابند کرنے کا اختیار رکھتے ہیں یہ صرف ذاتی عناد و پسند و ناپسند کا اظہار اور عدلیہ کے اندر تفریق پیدا کرنے اپنے بازو کو الگ کرنے کے مترادف ہے عدلیہ کو ایک بار پھر 1990 کی دیہائی کی جانب دھکیلا جارہاہے جب ایک بنچ دوسرے بنچ کے خلاف فیصلے دیتا رہا ہے جس سے عدلیہ کو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا اس لئے ہماری خواہش ہے کہ عدلیہ جہاں اپنی عزت و وقار و اتفاق کا دفاع کرے وہاں حکومتوں کے جھوٹ و فریب دھوکہ دہی کا ادراک کرتے ھوئے آئین و قانون کی عملداری کو عوام کی امنگوں کے مطابق یقینی بنائیں بنیادی حقوق کی تحفظ وضمانت میں اپنا کردار موثر اور عوام کی دہلیز تک پہنچائیں کسی بھی جج کے آئینی اختیارات کو کوئی سلب کرنے کا حق نہیں رکھتا ہر ایک اپنی ضمیر و اللہ کے سامنے جوابدہ ہے اس لئے قاضی فائز عیسیٰ پر کوئی قد غن یا ان کے فیصلوں پر اثرانداز ھونا از خود مس کنڈکٹ کے زمرے اسی طرح جرم ہے جیسے 3 نومبر 2007 کو ایک آرڈر کے ذریعے کام سے روکا کیا تھا اس وقت بھی قوم و وکلاء یکسو تھے آج بھی عدلیہ کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آنے دیا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں