سینیٹ الیکشن، عمران خان کی جانب سے باہر کاسیٹھ بلوچستان بھیجنا افسوسناک ہے، بی این پی عوامی
کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی)کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سینٹ الیکشن میں وہ لوگ منتخب ہو جو اس مظلوم قوم کی اس سر زمین کی پسے ہوئے طبقے کی آواز بن کر جائیں اس لیے یہ ایک حقیقت ہے کہ 51انتخابی حلقوں سے جو لوگ منتخب ہو کر یہاں آئے ہیں انکی کامیابی میں وہ لوگوں کی محنت اور قربانیاں شامل ہیں جو ایسے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پینے کا پانی نہیں ہے تعلیم کا ریشو 2فیصد ہے صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے روزگار کے زرائع نہیں ہے قسم پرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ان جیسے لوگوں کاووٹوں سے منتخب ہوکر ایوان بالا میں پہنچنے کا حق بنتا ہے جن کے دل میں اس مظلوم قوم اور اس سر زمین اور صوبے کا درد موجود ہو اور باہر سے کوئی سرمایہ دار کوئی سیٹھ بڑے پیمانے پر اپنے پیسوں کے گھمنڈ اور غرور میں بلوچستان کے منتخب نمائندوں کو خریدنے کیلئے تدگو میں لگے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کی کامیابی نا صرف نقصان دہ ہے بلکہ اس صوبے کی ثقافت اور کلچر کی کھلی نفی ہوگی بی این پی (عوامی)اپیل کرتی ہے تمام عزت دار اسمبلی کے ممبران سے کہ اپنی پارٹی کے آئین و منشور کی پابندی کرتے ہوئے علاقہ غیر کے ان سرمایہ دار اور سیٹھوں کو مسترد کر دے بلوچستان کی عزت اور سر بلندی آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے بلوچستان کی عوام کے آر مانوں کا سوداہ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں بلوچستان کا کوئی فقیر بھی ہو غیروں سے ہزار گناہ بہتر اور اچھا ہوگا شنید میں آیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے باہر سے کوئی سیٹھ بھیجا ہے جو بہت افسوسناک ہے جب ہم نے یہ بات سنی اور ان کے امیدوار کا اعلان ہوا توبی این پی(عوامی)اور بلوچستان کی عوام کوبہت صدمہ پہنچاوہ وزیر اعظم جو ریاست مدینہ کی بات کرتے نہیں تھکتے کیا مدینہ کی ریاست ایسی ہوتی ہے جہاں مظلوم لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے بلوچستان کے دور ہ کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ بلوچستان کی عوام کو انکا حق ان کی دہلیز پر آکر دونگا لیکن حق دینا تو اپنی جگہ اس فیصلے سے استحصال نا برابری اور بادشاہت کی بو آرہی ہے جب وزیر اعظم نے اپنے ایک ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں سینیٹ کی سیٹ کی قیمت 50کروڑ لگی ہے جس منصب پر وہ بیٹھے ہیں ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ پورے بلوچستان اور صوبے کے لوگوں کے احساسات اور جذبات سے کھلیں ان کے اس بیان سے پورے بلوچستان کے عوام کی دل ازاری ہوئی ہے اور ان کا استحقاق مجروع ہوا ہے اس لیے ہم اصل حکمران اور حاکموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کو نو آبادیاتی طرز حکمرانی کے سانچے میں چلانا بند کر کے حق اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ماضی کی غلطیوں سے سبق اور آنے والے دنوں کیلئے مثبت سوچ کیساتھ فیصلہ کریں منفی سوچ غرور تکبر استحصال اور نا برابری یہ دوریاں پیدا کرتی ہے ناراضگیاں پیدا ہوتی ہیں جڑی ہوئی چیزوں میں دراڑ آتی ہے ماضی سے سبق حاصل کر کے مستقبل کی رائے بہتر نگاہوں کے ساتھ تشکیل نو کرتے ہوئے ایک صحیح سمت میں قدم آگے بڑھایا جائے۔


