افغانستان نے دوحہ معاہدے میں پاکستان کو دہشت گردی روکنے کی ضمانت نہیں دی تھی، زلمے خلیل زاد
ویب ڈیسک : افغانستان کے لیے امریکا کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے ایکس پرایک جاری بیان میں لکھا ہے کہ پاکستان فوج کے ترجمان شریف چوہدری نے دوحہ معاہدے کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیںکیونکہ یہ معاہدہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل کے لیے مخصوص نہیں تھا۔تاہم خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اس سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے اگر افغانستان اور پاکستان اسی نوعیت کا کوئی معاہدہ کریں، اور دونوں ممالک اس بات کے پابند ہوں کہ کوئی بھی فرد یا گروہ—داعش اور ٹی ٹی پی سمیت—کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ کرے، اور اس عمل کی نگرانی کسی تیسرے فریق کے تحت ہو۔ طالبان کی قیادت سے حالیہ گفتگو کی بنیاد پر انہیں یقین ہے کہ وہ ایسے معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق ایسا معاہدہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو بنیادی طور پر بدل سکتا ہے، گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے۔


