ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور، عدالت نے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعظم خان نے تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت سے متعلق ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی درخواست کی سماعت کی۔ ملزمان کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ کسی خاتون نے ضمانت کے حصول کے لیے پوری رات اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گزاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد پولیس نے ان کے مو¿کلین کے خلاف پہلے سے مقدمہ درج کر رکھا تھا تو انھیں چاہیے تھا کہ وہ انھیں پہلے ہی گرفتار کر لیتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس کے حکام کو اس مقدمے میں گرفتاری اسی وقت ہی کیوں یاد آئی جب متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ عدالت کی طرف سے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کو کالعدم قرار دے دیا۔ انھوں نے اس درخواست کی سماعت کرنے والے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ عدالت کے احاطے سے کسی کو گرفتار نہ کیا جائے۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کے مو¿کلین کوئی ملک دشمن نہیں ہیں اور اس ملک میں انھیں بھی اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا اس عدالت کے جج یا کسی دوسرے پاکستانی شہری کو ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ برس یہ مقدمہ درج ہوا تھا اور ان کے مو¿کلین اس دوران مقدمات کی پیروی کے لیے مختلف عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ اگر پولیس چاہتی تو انھیں اس وقت بھی گرفتار کر سکتی تھی۔ انھوں نے استدعا کی کہ ان کے مو¿کلین کو اس مقدمے میں حفاظتی ضمانت دی جائے اور پولیس کو یہ ہدایت کی جائے کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو جب تک وہ مقدمہ سامنے نہیں آتا اس وقت تک ان کے مو¿کلین کو گرفتار نہ کیا جائے۔ جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے جو مقدمہ ہے وہ اسی کی حد تک ہی احکامات جاری کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی دس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔ سماعت کے دوران وکلا کی ایک قابل ذکر تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں