فوج وادی تیراہ میں کوئی آ پریشن نہیں کررہی، خواجہ آصف

ویب ڈیسک : وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نہیں، کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود نہیں، نقل مکانی معمول کی بات ہے، نوٹیفکیشن صوبائی حکومت کا ہے، وہ واپس لے لے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ایگریمنٹ صوبائی حکومت اور جرگے میں طے پایا، نوٹیفکیشن شائع ہوا، صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ وادیٔ تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 5 سو لوگ موجود ہیں، جرگے کے ارکان کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ بال بچوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے ہیں، ہمیں جہاں اطلاع ملتی ہے ہم وہاں جاتے ہیں اور آپریشن کرتے ہیں۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وادیٔ تیراہ میں کوئی تھانہ نہیں ہے، 17 ہزار فٹ کی اونچائی ہے اور سخت سردی ہوتی ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے جو معمول کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جرگے میں طے پایا کہ علاقے میں مراکزِ صحت، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے، صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نظر نہیں آ رہی۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وادیٔ تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، یہ سب مفروضے ہیں، وادیٔ تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے، وادیٔ تیراہ میں بھی ہر سال برف باری سے نقل مکانی ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ حالات بنائے گئے ہیں کہ جبری نقل مکانی کرائی جا رہی ہے۔وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ 11، 25 اور 26 دسمبر کو مشران کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، ان مشران نے پھر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں