بلوچستان پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں، جدید ساز و سامان فراہم کیا جائے گا، آئی جی محمد طاہر
کوئٹہ(یو این اے ) 106ویں بیسک ٹریننگ کورس کی پروقار پاسنگ آو ٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں سات ماہ کی سخت تربیت مکمل کرنے والے 868 اہلکاروں نے حصہ لیا۔ پاس آو ٹ ہونے والوں میں 826 مرد اور 42 خواتین ریکروٹس شامل ہیں۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد یہ اہلکار باقاعدہ طور پر پولیس فورس میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ کوئٹہ ، 18فروری 2026:۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ بلوچستان پولیس کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے انکے استعداد کار کو بڑھانے کے لئے اے ٹی ایف میں ایک ہزار افراد کی بھرتی اور سی ٹی ڈی کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کر کے پولیسنگ کے نظام میںمزید بہتر ی لارہے ہیں پولیس کے جوان دی گئی ذمہ داری عوام کے جا ن و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں ہم قربانی دے کر ملک بھر میں سب سے زیادہ بلوچستان پولیس کے 1120سے زائد افسران اور جوانوں نے خون کا نذرانہ دیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 106ویں پاسنگ آٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی و کمانڈنٹ بی سی اشفاق احمد ، کمانڈنٹ پی ٹی سی شہزاد اکبر، ایس ایس پی ایڈمن دوستین دشتی ، ایس ایس پی ایس سی آئی ڈبلیو ڈاکٹر سمیع ملک ، اے آئی جی ویلفیئر فریال فرید سمیت دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے ۔پولیس ٹریننگ کالج کے کمانڈنٹ شہزاد اکبر نے بتایا کہ 106ویں پاسنگ آوٹ پریڈ میں فارغ ہونے والے اہلکاروں کو سات ماہ پر مشتمل بیسک ٹریننگ کورس کرایا گیاجس میں 868 اہلکاروں نے تربیت مکمل کی، جن میں 826 مرد اور 42 خواتین ریکروٹس شامل ہیں۔ تربیت مکمل کرنے والے اہلکار باقاعدہ طور پر پولیس فورس میں شامل ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ وردی کا وقار اور صاف ذہن ایک اچھے افسر کی پہچان ہیں اپنے رویے میں بہتری لا کر پولیس اور عوام کے درمیان بہتر دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنا ئیں گے ہم عوام کے تعاون جرائم پر قابو پائیں گے انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف)میں ایک ہزار نئی بھرتیاں جبکہ کوئٹہ پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں ، جدید ساز و سامان فراہم کیا جائے گا اور سی ٹی ڈی کی تربیت میں جدت لائی جائے گی تاکہ دہشت گردی اور سنگین جرائم کا مو ثر مقابلہ کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ خضدار لیویز ٹریننگ سینٹر کو پولیس ٹریننگ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور پی ٹی سی میں اس وقت لیویز کے 600 اہلکار بھی زیر تربیت ہیں۔جس سے انکے فرائض کی بجا آوری میں بہتری آئے گی پولیس کی تربیت کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ پولیس نے ہر قسم کے جرائم، دہشت گردی اور سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس نے اب تک 1120 قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کوئٹہ میں عوام کے ساتھ خدمت اور تعاون کا رویہ اپنایا جائے گا اور اس سلسلے میں وفاق کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ نئے تربیت مکمل کرنے والے پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی نوکری اگر پیشہ ورانہ مہارت، محنت اور دیانتداری کے ساتھ کی جائے تو یہ کسی عبادت سے کم نہیں اپنے رویہ میں بہتری لا کر پولیس اور عوام کے درمیان پولیس کا بنیادی کام امن و امان برقرار رکھنا ہے اور اس مشن میں دہشتگردی اور جرائم کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ ہماری اولین فرائض میں شامل ہے ۔ 31 جنوری کے حملوں میں دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دیا گیا اور اس شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانی کامل فخر ہے۔ عوام کے ساتھ رویہ دوستانہ اور شائستہ ہونا چاہیے جبکہ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ سختی برتی جائے۔ پولیس کو ٹیم ورک کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہINLاور UNODC کے تعاون سے پولیس ٹریننگ سینٹر میں کافی ترقی ہوئی ہے اور ٹریننگ سینٹر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے چند دنوں میں عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔ایک منعقدہ اجلاس میں وزیراعلی کو انفراسٹرکچر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔تاکہ پولیس کی بہتری کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف ٹی ایف پولیس کو مزید مو ثر بنایا جائے گا اور محکمہ پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے گا۔ پہلی بار گریڈ 17 سے 18 میں ترقی پانے والے افسران کے لیے خصوصی تربیتی کورس تیار کیا گیا ہیں۔ سربراہ نے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ کرپشن، جھوٹ اور اسمگلنگ سے بچیں اور دیانت، سچائی اور قانون کی پاسداری کو اپنا شعار بنائیں۔ اس موقع پر کمانڈنٹ پی ٹی سی شہزاد اکبر نے کہا کہ کالج میں اب تک تقریبا61,819 سے زائدآفیسران تربیت حاصل کر چکے ہیں اس وقت کالج سے868آفیسران پاس آٹ ہو ئے ہیں سال1963سے قبل بلوچستان میں پولیس کا کوئی تربیتی ادارہ موجودنہ تھا۔اسی سال قلات میں اےک رےکروٹ ٹرےننگ سینٹر قائم کےا گیا۔جبکہ سال1978میں اس کوپولیس ٹریننگ کالج کا درجہ دے کر موجودہ مقام پر منتقل کیا گیا۔بعد میں اس کو سال2003میں، پولیس ٹریننگ کالج کا درجہ دیا گےا ۔پولیس ٹریننگ کالج کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے سینئر تجربہ کار انسٹرکٹرز نے ماضی میں دیگر محکموں کے اہلکاروں کو بھی تربیت سے ہمکنار کیا ہے۔جس میں پاکستان ریلوے، ایف آئی اے،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،بلوچستان لیویزفورس کیو ڈی اے،اینٹی کرپشن،پاکستان کسٹمز، میونسپل کارپوریشن کے ادارے بھی شامل ہیں۔اس ادارہ میں روٹین کورسز کے علاوہ انوسٹی گیشن، ہیڈ محررکورس، ڈرل اور ڈرائیورز کے اسپیشل کورسز بھی کرائے جاتے ہیںاور پولیس میں ضم ہونے والے لیویز کے605 جوانوں کو بیسک / اورینٹیشن کورس ، اور موجودہ حالات کے پیش نظرمخصوص تعداد میںاے پی سی ڈرائیور ز کو اسپیشل کورس بھی کراےا جارہاہے۔اس موقع پر آئی جی پولیس نے تعمیر ہونے والے نئے 5منصوبوں جن میں ٹینس ، بیڈمنٹن ، فٹسال ، ویمن میس لائبریری ، ڈسپنسری اور جم کا افتتاح کیا جبکہ ٹریننگ کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والے ریکروٹس میں شیلڈ اور نقد انعام دیا ۔


