پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کے پاکستان مخالف رجحانات کے باعث پنجاب میں بھی کچھ لوگ انتہا پسندبن رہے ہیں، شیر شاہ سوری کے مجسمے کے مسئلے نے صرف نسلی نفرت کو بھڑکایا ہے، جان اچکزئی
کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان کے سابق وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پشتون اور بلوچ نسلی قوم پرستی جو فاشزم کی سرحدوں کو چھوتی ہے، پنجابی قوم پرستی کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہی ہے، جو تاریخی طور پر ہمیشہ پاکستان نواز رہی ہے، اس کے برعکس، پشتون اور بلوچ قوم پرستی مختلف درجوں میں پاکستان مخالف رجحانات رکھتی رہی ہے (سوائے اے این پی مکتب فکر کے)، پنجاب کے نوجوانوں کی یہ انتہا پسندی اس حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے کہ یہ نسلی آوازیں عام پشتون اور بلوچ برادریوں کی نمائندگی نہیں کرتیں، جو پرامن، محنتی اور پاکستان کے وفادار ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وسیع دل والے پنجابی کمیونٹی، ریاست کو بیانیے اور فکری جنگ میں قیادت کرنی چاہیے اس سے پہلے کہ ہمارے اندرونی فالٹ لائنز مزید انتہا پسندی اور بگاڑ کا شکار ہوں، شیر شاہ سوری کے مجسمے کے مسئلے نے صرف نسلی نفرت کو بھڑکایا ہے، جبکہ ریاست خاموش کھڑی رہی، محب وطن قوتیں الجھن میں ہیں اور نسلی علامتوں کے پیچھے چھپے ایجنڈے کو سمجھنے میں ناکام ہیں، پاکستان کا اسٹریٹجک خطرہ آج عسکری میدان میں نہیں بلکہ غلط معلومات اور جھوٹے بیانیے میں ہے جو سادہ لوح عوام کے ذہنوں پر قبضہ کر رہے ہیں، حکومتی اہلکاروں اور ریاستی نمائندوں کی خاموشی، تمام مراعات، شان و شوکت اور بڑے دفاتر کے باوجود بہت ہی خوفناک ہے، پاکستان سب سے پہلے ہے، یاد رکھیں
@fawadchaudhry


