ننگرہار میں گھر پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 20 افراد مارے گئے ہیں، مناسب وقت پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا، افغان حکام

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے کردی کس میں شہاب الدین نامی شخص کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ متاثرہ خاندان کا ایک فرد کا کہنا ہے کہ ’سب کچھ ختم ہو گیا، میرے بچے چلے گئے، میرا بھائی اور میرا شوہر چلا گیا، اور میری کنواری بیٹیاں ماری گئیں۔‘ عینی شاہدین نے بتایا کہ رات دیر گئے ایک فضائی حملے میں مکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بی بی سی دری کے مطابق، ننگرہار پولیس کے ترجمان سید طیب حماد نے طلوع نیوز کو بتایا، ’پاکستان نے صوبے کے ضلع بہسود میں ایک شہری کے گھر کو نشانہ بنایا، جس میں ایک ہی خاندان کے 23 افراد ہلاک ہو گئے۔‘ اب تک ملبے سے صرف چار افراد کو نکالا جاسکا ہے اور جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ بہسود کے علاوہ صوبہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل اضلاع سے بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔ علاوہ ازیں افغان حکومت کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔ بی بی سی پشتو کے مطابق، افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کو ’افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس عمل کو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت قومی دفاع ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی جائز اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں