خضدار میں مسلح افراد نے تعمیراتی منصوبے پر کام کرنیوالے 6 افراد کو اغوا کرلیا، پولیس حکام

خضدار (آئی این پی) بلوچستان کے ضلع خضدار اور بارکھان میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران دو مختلف واقعات میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے 9 مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق ہفتے کی شام خضدار سے تقریبا 50کلومیٹر دور مولہ کے علاقے میں زیرِ تعمیر واٹر چینل منصوبے پر کام کرنے والی ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے دھاوا بولا۔اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ منیجر گل شیر، غلام سرور، عبدالمالک بگٹی، مولانا بخش، محمد عرفان اور اختیار شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق دو مزدوروں کا تعلق سندھ جبکہ باقی چار کا تعلق ضلع خضدار سے ہے۔ دوسری جانب بارکھان کے علاقے ڈھولا ندی کے قریب سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے کریش پلانٹ پر بھی مسلح افراد نے سنیچر کو حملہ کیا۔مولہ پولیس تھانے کے ایک اہلکار نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اتوار کی صبح درجنوں مسلح افراد مولہ شہر میں داخل ہوئے اور پولیس تھانہ، ہسپتال اور دیگر سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں- پولیس کے مطابق 20سے زائد مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور تین مزدوروں کو اغوا کر کرکے قریبی پہاڑی کی طرف فرار ہو گئے۔ مغوی مزدوروں کا تعلق بارکھان سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع موسی خیل سے بتایا جا رہا ہے۔مقامی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے کرش پلانٹ سے کچھ فاصلے پر قائم پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا اور وہاں تعینات تین پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا۔ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے