بلوچستان کے فنڈز پر کٹ لگتا تو صوبے کے پاس بجٹ میں صرف 9 ارب روپے ہوتے، سرفراز بگٹی
کوئٹہ(این این آئی) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اپنے حقوق کے لیے مربوط لیکن نرم لہجے میں جدوجہد جاری رکھے گی ، بلوچستان کے فنڈز پر کٹ لگتا تو صوبے کے پاس بجٹ میں صرف 9ارب روپے ہوتے ، میڈیا مالکان فیصلہ کرلیں کہ وہ قومی میڈیا ہیں یا کمرشلائز ڈ میڈیا، وفاقی وزراءعطاءتارڑ ، محسن نقوی میڈیا ہاﺅسز کے بیوروز کھلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، بلوچستان حکومت اور اسمبلی میڈیا نمائندگان کے ساتھ ہے ، ضرورت پڑی تو اسلام آباد جاکر احتجا ج بھی کریں گے ۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں صحافی انتہائی مشکل حالات میں کام کررہے ہیںہم نے پہلے بھی میڈیا ہا¶سز کی بندش پر احتجاج کیا یہاں دہشتگرد ،علیحدگی پسند تنظیموں اورحکومت کے مابین صحافی نامساعد اور مشکل حالات میں کام کررہے ہیں ایک ایسا شخص جس کی والدہ اور بیوی دونوں بستر پر بیمار پڑی ہیں ایک دن پہلے اسے کہا گیا کہ کل آپ دفتر نہ آئیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا 43فیصد ہے ہماری مثبت نہیںتو منفی آواز کم از کم اسلام آباد تک پہنچ رہی تھی ہم اس زیادتی کو برداشت نہیں کریں گے کہ میڈیا ہاوسز اپنے بیوروز یہاں بند کریں ۔انہو ں نے کہا کہ وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ انتہائی عزت دار اور خاندانی شخص ہیں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ کوئی بیوروبند نہیں ہونے دیں گے قومی ذمہ داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے بلوچستان پاکستان کا مضبوط ترین حصہ ہے پاکستان اور بلوچستان ایک دوسرے کے بغیرکچھ نہیں بیشک یہاں سے بزنس نہیں مل رہا بلکہ قومی ذمہ داری بھی کسی چیز کا نام ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے بھری محفل میں مجھے کہا کہ ایک بھی بیورو بند نہیں ہونے دیں گے مالکان اربوں روپے کماتے ہیں اور یہاں ملازمین کو 8سے10ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں یہ ایوان بلوچستان کے میڈیا نمائندوں کے ساتھ کھڑا ہوگا ہمیں کیوں اس نہج پر لایا جارہا ہے کہ ہم وزیراعلیٰ اور منتخب نمائندے ہوتے ہوئے اسلام آباد جاکر احتجاج کریں انہوں نے کہا کہ ایک بیورو سے کاروبار نہ ملنے سے مالکان کو کیافرق پڑے گا وہ اربوں روپے کماتے ہیں میں ہاتھ جوڑ کر وفاقی وزیر عطا تارڑ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائیں ایک بھی بیورو بندہوا تو ہم میڈیا نمائندوں کے ساتھ ہونگے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ میڈیا مالکان بلوچستان کو پنجاب ،سندھ اور وفاق کی نگاہ سے نہ دیکھیں اگر بند کرنے ہیں تو پھر سارے ادارے بند کریں صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان نہیں بلکہ بے روزگاری ہے کیا ہم اس میں اضافہ کررہے ہیں میں اس مسئلے پر وزیراعظم سے بھی بات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان فیصلہ کرلیں کہ اگر وہ کمرشلائز ہوچکے ہیں تو وہ پھراپنے آپ کو قومی میڈیا نہ کہیں اگر وہ قومی میڈیا ہیں تو ہرڈویژن کی سطح پر انہیں بیورو بنانے چاہئے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی بلوچستان کیلئے درد دل رکھتے ہیں ہمیشہ سب سے پہلے بلوچستان آتے ہیں ان سے بھی کہتا ہوں کہ یہاں انکے چینل کا بیورو بھی بند ہے آج انکے چینل کا بیورو کھل جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کا ہر مسئلہ مربوط لیکن نرم لہجے میں رکھیں گے اگر بلوچستان کے فنڈز پر کٹ لگتا تو آج ہمارے پاس بجٹ میں صرف 9ارب روپے ہوتے وفاقی وزیر اسحاق ڈار اور بلاول بھٹو زرداری کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے بلوچستان کا ساتھ دیا ہم اپنے حقوق کیلئے کھڑے رہیںگے۔قبل ازیں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی کال پر صحافیوں نے میڈیا ہاﺅسز کے بیوروز بند کرنے کے خلاف احتجاجا اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جس پر صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک، رکن اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ نے صحافیوں سے مذاکرات کیے اور انکا بائیکاٹ ختم کروا کر اسمبلی میں دوبارہ واپس لائے ۔


