صوبائی بجٹ میں جامعات کی گرانٹ میں اضافہ نہ کرنا مایوس کن اور تعلیم دشمن عمل ہے، اسا جامعہ بلوچستان

کوئٹہ(یو این اے )اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے صوبائی حکومت کی جانب سے 17 جون 2026 کو پیش کیے گئے نئے مالی سال کے بجٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، صوبے کی بارہ سرکاری جامعات کے لیے گرانٹ میں اضافہ نہ کرنے کے عمل کو انتہائی مایوس کن اور تعلیم دشمن قرار دیا ہے۔ اپنے ایک جاری کردہ مذمتی بیان میں ترجمان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک بار پھر صوبے کی تمام 12 جامعات کے لیے مجموعی طور پر صرف آٹھ ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ یہ تمام اعلی تعلیمی ادارے پہلے ہی شدید ترین مالی بحران کا شکار ہیں۔ترجمان نے جامعات کی اندرونی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خصوصا جامعہ بلوچستان (یونیورسٹی آف بلوچستان)کو اس وقت سنگین مالی مشکلات کا سامنا ہے، جہاں سال 2022 سے اب تک ریٹائر ہونے والے 150 سے زائد اساتذہ اور ملازمین کو تاحال ان کی پنشن کنٹریبیوشن، کموٹیشن، لیو اِن کیشمنٹ اور دیگر قانونی واجبات ادا نہیں کیے جا سکے۔ بیان میں مزید انکشاف کیا گیا کہ حاضر سروس اساتذہ کے جنرل پراویڈنٹ فنڈ (GP Fund) کے کھاتے بھی مکمل طور پر خالی پڑے ہیں، جس سے ملازمین میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔بیان میں جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے اساتذہ و ملازمین کے باقاعدہ منظور شدہ الانسز بشمول اردلی اور یوٹیلٹی الانس بھی بند کر دیے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی کالونی میں رہائش پذیر عملے سے مینٹیننس(مرمت) کے نام پر تنخواہوں سے باقاعدگی کے ساتھ کٹوتیاں تو کی جاتی ہیں، لیکن اس مد میں کالونی کے مکینوں کے گھروں کی حالت زار سدھارنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ سے ان تمام مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں