اسرار قلندرانی قتل کیس، وزیراعلی کی اسمبلی میں فاتحہ خوانی کی مخالفت
کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے بی اے پی کے رکن پارلیمانی سیکرٹری آغا عمر احمدزئی کا احتجاجا ً واک آﺅٹ، وزیراعلیٰ کی جانب سے اسرار قلندرانی کی زیر حراست موت کی تحقیقات کا اعلان ۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو 45منٹ کی تاخیر سے اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری آغا عمر احمدزئی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں اسرار قلندرانی نامی نوجوان کو پولیس نے حراست میں لیکر پانچ روز تک قید رکھا جہاں اس پر تشدد کیا گیا اور بعد میں اس کی موت کو خودکشی قرار دے دیا گیا ۔اسرار قلندرانی کی روح کے ایصال ثواب کے لیے ایوان میں فاتحہ خوانی کی جائے ۔ جس پر وزیراعلیٰ میر سرفرازبگٹی نے کہا کہ بچے کے ساتھ ذیادتی ہوئی ہے اس پر انکوائر ی ہورہی ہے میں نے تصاویر دیکھی ہیں جس میں اسے بد ترین تشددکا نشانہ بنایا گیا کسی کے بھی مجرمانہ ریکارڈ پر اسے مارنے کی اجازت نہیں دیں گے اسرار قلندرانی کا کریمنل ریکارڈ موجود ہے ہم کسی مجرم کے لیے ایوان میں فاتحہ خوانی نہیں کر سکتے اس معاملے پر سزااور تادیبی کاروائی کی جائےگی ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس ایوان 210پنجابیوں کے قاتل مجید لانگو سمیت دیگر ایسے لوگوں کے لیے بھی فاتحہ خوانیاں کی گئیں لیکن اس ایوان میںکسی مجرم کے لیے فاتحہ خوانی کی اجازت نہیں دی جائےگی ۔آغا عمر احمدزئی نے کہا کہ اسرار قلندرانی کی دوران حراست موت ہوئی ہے اور ہم اس پر فاتحہ بھی نہ کریں میں ایسے میں ایوان سے احتجاجا ً واک آﺅٹ کرتا ہوں ۔اس موقع پر بی اے پی کے رکن آغا عمر احمدزئی نے ایوان سے واک آﺅٹ کیا تاہم بعد میں وہ ایوان میں واپس آگئے ۔


