ایران سے مذاکرات کا نیا دور آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، امریکی میڈیا

تہران (این این آئی )علاقائی صورتحال سے واقف حکام نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تیزی سے کوششیں کر رہے ہیں، یہ کوششیں اسلام آباد میں ہونے والے طویل امن مذاکرات کے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد کی جا رہی ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق ان حکام کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کی سخت بیانات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ چند دنوں میں بات چیت کا دوسرا دور منعقد ہو۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں تاکہ اس کمزور جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے، جو منگل کی شام اعلان کی گئی تھی اور دو ہفتوں پر مشتمل ہے۔مزید کہا گیا کہ اسلام آباد مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد سب سے اعلی سطح کے مذاکرات تھے، جن میں آبنائے ہرمز کو بغیر فیس کھولنے، انتہائی افزودہ یورینیم کے مستقبل اور ایران کی جانب سے منجمد تقریبا 27 ارب ڈالر فنڈز کے ریلیز جیسے امور پر بات چیت ہوئی۔ذرائع کے مطابق ایران نے محدود سطح پر افزودگی جاری رکھنے یا اپنے ذخائر کم کرنے کی تجویز دی، تاہم کوئی مشترکہ حل سامنے نہیں آ سکا۔دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بات چیت کے باوجود دونوں فریق جنگ کے خاتمے پر متفق نہ ہو سکے، تاہم جنگ بندی کی پاسداری جاری رہی جو دو ہفتوں تک موثر ہے۔پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی اس جنگ بندی کا مقصد مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کو کم کرنا ہے، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔امریکی وفد کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کو آخری اور بہترین پیشکش دی ہے، جبکہ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا نے ایران کا اعتماد حاصل نہیں کیا۔پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ان کا ملک آئندہ دنوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور رابطے میں سہولت کاری جاری رکھے گا۔ایرانی سرکاری ٹی وی نے مذاکرات کی ناکامی کی وجہ امریکی غیر معقول مطالبات کو قرار دیا، جبکہ ایرانی حکام نے کہا کہ ایک نشست میں مکمل معاہدے کی توقع نہیں تھی۔بعد ازاں ایران نے امریکا پر الزام لگایا کہ وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے غیر حقیقی مطالبات کر رہا ہے، جو عالمی تیل کی بڑی گزرگاہ ہے۔سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ایک فریق اپنی شرائط دوسرے پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں