بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسزکے کئی شعبوں میں ایم فل پروگرام شروع کرانے کا فیصلہ کیاہے، گورنر بلوچستان
کوئٹہ (آن لائن) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج ہم نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے چھٹے سینیٹ اجلاس میں میڈیکل کی تعلیم میں بہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کیلئے مختلف شعبوں میں ایم فل پروگرام شروع کرانے کا تاریخی فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں مذکورہ یونیورسٹی جلد ہی جدید طبی شعبوں میں پیشہ ورانہ ماہرین پیدا کرنا شروع کریگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہائیر ایجوکیشن سیکٹر میں "سینیٹ” کو وہی اختیار حاصل ہے جو حکومت میں "کابینہ” کو حاصل ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر جب سینیٹ کوئی فیصلہ کر لیتی ہے تو پھر وہی فیصلہ حتمی رہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے چھٹے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹ اجلاس میں صوبائی وزیرتعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس گل حسن ترین، وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم جہانزیب مندوخیل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ پروفیسر ڈاکٹر ظہور بازئی اور رجسٹرار بولان میڈیکل یونیورسٹی اورنگزیب کاسی سمیت سینیٹ کے تمام ممبران موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم نے تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ کو بہتر بنانے کیلئے روز اول سے ان پر کڑی نظر رکھی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ ہم نے کسی بھی وائس چانسلر کی ذمہ داریوں میں کبھی مداخلت نہیں کی ہے۔ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تمام وائس چانسلرز منصب اور کارکردگی کے اعلی ترین معیارات پر فائز ہیں۔ اختیارات کے توازن اور ادارہ جاتی خودمختاری کے پیش نظر بولان میڈیکل یونیورسٹی دیگر یونیورسٹیوں کی طرح ایک روشن اور جدید مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ امید ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی اور ان کی پوری اسی جذبہ سے پیوستہ ہوکر شعوری کوششیں کرتے رہیں گے ۔گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ہائیر ایجوکیشن میں انٹرنیشنل معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اعلی تعلیم ہمارے اسٹوڈنٹس کیلئے قابل رسائی اور سستی رہے۔ بولان میڈیکل یونیورسٹی کے چھٹے سینیٹ اجلاس کے شرکا کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔


