ون یونٹ ٹوٹا تو بلوچ حیران تھے کہ کیا کریں، انہیں آسمان سے تحفے کے طور پر صوبہ مل گیا، تاجر اپنا سامان بلوچوں کے راستے سے لانے لے جانے اور انہیں کرایہ پر دینے سے گریز کریں، محمود اچکزئی

چمن (ویب ڈیسک) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے چمن میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی پاکستان کو چلانا اور بچانا چاہتا ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، بچانے اور چلانے کا طریقہ یہ ہوگا کہ یہاں ایک آئین ہوگا جس کاہر ادارہ آئین میں متعین کیے گئے فریم ورک کا پابند ہوگا، منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی،داخلہ اور خارجی پالیسیاں وہاں سے نکلیں گی یہ پاکستان ترقی بھی کرے گا۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے انتہائی برادرانہ تعلقات ہیں، افغانستان آزادی کے بارے میں انتہائی حساس ہے افغانستان کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے اور افغانوں کو بھی ہر صورت میں پاکستان کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔اگر کوئی اس کا حل چاہتا ہے تو پاکستان اپنے ہمسایوں کی ایک اجلاس بلائیں اس میں افغانوں پر جو جو الزامات ہیں وہ لگائیں ان کے جواب سنیں،گولیوں، دھماکوں سے مسائل حل اور ختم نہیں ہوں گے، برطانیہ، امریکا، روس افغانستان میں داخل ہوئے انہیں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑااور افغانستان سب کا قبرستان بن گیا۔ خدا نخواستہ اگر ہم نے یہ غلطی کی تو یہ سارا علاقہ پشتون بلوچ یہ سارا علاقہ خطرناک آگ کی لپیٹ میں آجائے گا،ہمارے خطے میں ایران کی جو صورتحال ہے یہاں دنیا کے تمام طاقتور ممالک امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اگر ان کا میدان جنگ ہمارا یہ خطہ بنے تو پھر بہت بڑی بربادی ہوگی۔ یہ ہم دو سال سے کہہ رہے تھے کہ ہمارے حکمرانوں کی عقل کا امتحان ہے۔ ہمیں ہر صورت اپنے خطے کو جنگ سے نکالنا ہے اور تمام ممالک ایک دوسرے کی آزادی، سالمیت وخودمختاری کوتسلیم کریں۔ افغانستان کے معاملے میں لوگ مداخلت نہ کریں، افغانستان تاریخی طور پر آزاد رہا ہے۔اگر خدانخواستہ افغانستان ٹوٹا تو پاکستان اور ایران بھی ٹوٹ جائیں گے۔ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔افغانستان کے ہمسایہ ممالک بیٹھ کر مسئلہ حل کریں، اگر افغانستان کی موجودہ حکومت پر لوگ الزام لگاتے ہیں تب بھی ہم پہلے افغانستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔لاکھوں پاکستانی کینیڈا، اٹلی اور دیگر ممالک کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ہر پشتون اپنا تذکرہ بنوائے اور لوگوں کے سامنے واضح طور پر دکھائے کہ میرے پاس یہ تذکرہ موجود ہے۔یہ خاردار تار امریکہ کے کہنے پر لگائی گئی ہے۔جلسہ سے عام سے پشتونخوامیپ کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرو¿ف لالا، مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی، مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلع قائمقام سیکرٹری جمال خان اچکزئی نے سرانجام دیے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی شراف الدین صاحب نے حاصل کی۔ جلسہ عام میں ایڈووکیٹ دارو خان اچکزئی، خان شوقی اور عبداللہ خان رحمان کہول نے اپنے خاندانوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہوکر پشتونخواملی عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، مذاکرات ہی خطے میں امن و ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں، سرحدی علاقوں میں ٹریڈ فری زون قائم کرنے کی ضرورت ہے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ ملک کو سیاسی و انتظامی مسائل سے نکالنے کا واحد حل 73 19کے آئین کی بحالی میں ہے، منتخب پارلیمنٹ کو ہی طاقت کا سرچشمہ تسلیم کرنا ہوگا۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں تمام اقوام کو برابری کے حقوق دینے کی ضرورت ہے، چاروں صوبوں کو وسائل اور اختیارات میں مساوی حصہ دیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچ ماما اپنی آزادی کا جنگ لڑ رہے ہیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے نام پر لوگ ہماری گاڑیوں کو جلاتے ہیں،پشتونوں سے گاڑیاں، نقدی اور زیورات چھینتے ہیں۔ہمیں بتانا ہوگا کہ جب آپ اپنی آزادی کا جنگ لڑ رہے ہیں زندہ باد لیکن میرے گھر کے سامنے لوگوں کو مارنا کون سی آزادی ہے میرے گھر کے سامنے غنڈا ٹیکس چوری ڈکیتی لوٹ کھسوٹ یہ سب کیا ہے؟ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان کی حکمرانی میں پشتونوں کاحصہ نہ ہو یہاں کے وسائل پر یہاں کے بچوں کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ افغانوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے افغانستان کے لوگ یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ آپ اور امریکہ لے آئیں اور یہاں بسایا۔ جب آپ ان لوگوں سے ان کے اپنے وطن کو برباد کروانے کا کام کر رہے تھے تو انہیں عثمان غنی، صحابہ کرام، مجاہدین اور پتہ نہیں کیا کیا بڑے القابات دے رہے تھے آج ان کے یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو،پڑھنے والے بچوں کو بڑی ذلالت والے طریقے سے نکال رہے ہیں۔ جب ایک بچہ یہاں پیدا ہوا ہے اور ان سب کو اردو زبان آتی ہے کسی نے بھی اپنا وطن آج تک دیکھا نہ ہو اور آپ زبردستی اسے اٹھا کر وہاں پھینک دیں اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔ محمود خان اچکزئی نے تاجروں کو بھی خبردار کیا کہ اپنے سامانوں کو بلوچوں کے راستے سے اور انہیں کرائے دینے سے گریز کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم ایسے حالات میں چمن آئے ہیں کہ وطن پر ہر طرف بدبختی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔میں چمن کے لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ بھوکے ہو، آپ کے تجارتی دروازے بند ہوں اور میں آپ کے ساتھ کھڑا نہ ہوں تو میں پشتون نہیں، لیکن آپ بھی میرے ساتھ کھڑے رہو گے۔ ہر گھر سے ایک ایک آدمی پشتونخوا کو دینا ہوگا ہم اپنی قومی لشکر بنائیں گے۔ لشکر اس لیے نہیں کہ کسی کو گالی دے گے بلکہ اس لیے کہ وطن کی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کی تمام بارڈر کھلے ہوئے ہوں اور بلوچ آزادی کی جنگ لڑ رہا ہو پھر بھی تفتان بارڈر کھلا ہے کاروبار جاری ہے جبکہ دوسری جانب چمن کے لوگوں پر رزق اور روزگار کے دروازے بند ہوں یہ سب ناقابل قبول ہے۔ قبائل کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے ٹیکس میں رعایت دینے کی ضرورت ہے۔بے شک چمن کے لوگوں سے تمام اشیاءپر ٹیکس لیا جائے لیکن انہیں تجارت کے راستے کھولنے دیے جائیں۔ مشاہد حسین اور وسیم سجاد کی سربرائی میں کمیٹی آئی تھی انہوں نے سوائے اسلحہ و منشیات کے تمام اشیاءکے لانے اور لے جانے کی اجازت دی تھی لیکن آج پشتونخوا وطن کے لوگوں پر رزق روزگار کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں جو ناقابل قبول ہے۔آج ہمارے وطن میں ہر طرف ظلم و بربریت کی تاریکیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ ڈیورنڈ خط کے دونوں اطراف ایک ہی قوم ایک ہی قبیلے کے لوگ آدھے ادھر آدھے ادھر آباد ہیں کوئی بندہ جس کا گھر یہاں اور زمینداری وہاں ہو آخر وہ اپنی زمینوں میں کیسے جاسکتا ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے تار کو اکھاڑ کر پھینکنا ہوگا۔ محمود خا ن اچکزئی نے کہا کہ جب ون یونٹ ٹوٹا تو پشتونوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ وہ اپنی شناخت ہی بھول گئے۔بلوچ حیران تھے کہ کیا کریں، لیکن انہیں آسمان سے تحفے کے طور پر صوبہ مل گیا۔چمن کے لوگوں نے خان شہید کے ساتھ قربانی دی، تمام قومیں ان کے ساتھ کھڑی رہیں اور خان شہید کو صوبائی اسمبلی تک پہنچایا۔ چمن کے لوگوں کا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر بڑا احسان ہے، اب اس کی حفاظت میں بھی آپ میرا ساتھ دو گے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب پاکستان بننا جب پاکستان بنا اور نیشنل عوامی پارٹی نے صوبوں کے بننے کے وقت اپنے منشور سے انحراف کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کی خواہشات کے مطابق صوبے بنائے جا رہے تھے تو خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی جو پورے بر صغیر پاک و ہند کے درخشاں ستارے مانے جاتے تھے مجبورا ان تین اضلاح تک محدود کر دیے گئے کہ انہوں نے سب سے پہلے یہ آواز اٹھائی کہ صوبے غلط بنائے گئے۔وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کہا کہ ہم بلوچ کے ساتھ نہیں بلکہ برٹش بلوچستان کو پشتو نخوا وطن کے ساتھ منسلک کرنا چاہیے تاکہ صوبے خالص، قومی،لسانی،ثقافتی بنیادوں پر نیپ کے منشور کے تحت بنے۔اس بات پرڈیورنڈ خط کے دونوں اعتراف سے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کوب±رے القابات سے نوازاگیا۔ چمن کے لوگوں نے سازشوں کے باوجود یہاں کے عوام نے پشتونخوا میپ کا انتخابات میں بھرپور ساتھ دیا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کرنل،میجر، برگیڈیئر صاحبان اگر واقعی کسی کو پاکستان عزیز ہے تو سن لے پاکستان چوری اور ڈاکے سے نہ بن سکتا ہے نہ چل سکتا ہے۔ووٹ چرانے سے پاکستان نہیں بن سکتا کیا انجام ہوگا جب آپ ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ووٹ چرا رہے ہوں نتائج کو تبدیل کر رہے ہوں اور پھر ہم بھی وہاں آکر کھڑے ہوں تب کیا ہوگا؟۔اگر کوئی پاکستان کو بچانا اور چلانا چاہتا ہے تو اس واحد حل یہ ہے کہ آئین کو ماننا ہوگا۔ آئین کو جس طرح چھیڑا گیا اس لیے واپس اپنی حالت میں لانا ہوگا عوام کے حقیقی ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ کو با اختیار بنانا ہوگا میڈیا اور عدلیہ کو آزاد کرنے ہو گے، فوج سمیت تمام جاسوسی ادارے اپنے فریم میں رہیں گے،قوموں کے وسائل پر ان کے بچوں کا واک و اختیار ہوگا تب ہی پاکستان بچ سکتا ہے اور چل سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں