بیرونی مداخلت کے بہانوں کو مسترد، داخلی پالیسیوں اور سرحدی انتظام پر سوال اٹھاتا ہوں، پاکستان بچانے کا واحد راستہ صوبوں کو ان کے وسائل پر اختیار دینا اور ان کی آواز سننا ہے، محمود اچکزئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ سیکورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں، روزانہ 80 سے 100 لوگ جاں بحق ہورہے ہیں۔ ہلاکتوں میں سیکورٹی فورسز، پولیس اور عام شہری سب شامل ہیں، جو ملک کی سنگین حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ بیرونی مداخلت کے بہانوں کو مسترد کرتے ہیں اور داخلی پالیسیوں اور سرحدی انتظام پر سوال اٹھاتا ہوں۔ پاکستان کسی ایک اکائی کا نام نہیں بلکہ یہ بلوچ، پشتون، سندھی اور سرائیکی عوام کا مجموعہ ہے۔ اگر ان اکائیوں کو اختیارات اور احترام نہ دیا گیا تو ملک کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کی زمین سنگ مرمر، گیس، پیٹرول اور یورینیم جیسی دولت سے مالا مال ہے۔ افسوس کہ اتنی معدنیات کے باوجود خٹک بیلٹ جیسے علاقوں میں لوگ پینے کے صاف پانی تک کو ترس رہے ہیں۔ 75 سالہ تاریخ میں کسی بھی حکومت نے ان علاقوں کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے۔ مقامی لوگوں کی اعلیٰ شرحِ تعلیم کے باوجود انہیں ان کے قدرتی وسائل سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ملک بچانے کا واحد راستہ صوبوں کو ان کے وسائل پر اختیار دینا اور ان کی آواز سننا ہے۔ طاقت کے بجائے جمہوری رویوں اور منصفانہ تقسیم سے ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالا جاسکتا ہے۔


