جولائی اور پیپلز پارٹی
تحریر: سرفراز خان
5 جولائی1977ءکو پیپلز پارٹی کے بانی اور پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت ختم کی جاتی ہے۔
12 جون 1977ءکو قومی بجٹ پیش کیا جاتا ہے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کے لہجوں کی شدت اور الزامات کی بھرمار سے ذوالفقار علی بھٹو اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اپوزیشن کو کسی تیسری طاقت کی پشت پناہی ضرور حاصل ہے تب تک بھٹو آنے والے خطرات کو بھانپ چکے تھے اور 4 جولائی 1977ءکو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ قومی اتحاد کے مطالبات مان کر دربارہ الیکشن کروا دیے جائیں گے مگر آپریشن (فیئر پلے) کے تحت اقتدار سنبھال کر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی کابینہ کو گھر بھیجا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں نواب محمد احمد خان مصوری کے کیس میں گرفتار کیا جاتا ہے اور لاہور ہائی کورٹ انہیں سزائے موت سناتی ہے جس کے خلاف اپیل مسترد ہونے پر 4 اپریل 1979ءکو انہیں سینٹرل جیل راولپنڈی میں صبح فجر کے وقت پھانسی دیدی جاتی ہے۔
بھٹو کی حکومت کی برطرفی اس وقت مختلف قیاس آرائیوں کا شکار رہی، کسی نے کہا بھٹو کو قادیانیوں کو اسلام سے نکالنے کی سزا دی گئی تو کسی نے اسے غیر ملکی مداخلت سے جوڑا۔
بھٹو دور میں بلوچستان صوبہ تو بنا مگر کہتے ہیں بلوچستان کے حالات بہتر نہ ہوئے۔
بھٹو دور اقتدار کا بلوچستان آج کے بلوچستان سے بالکل بھی مختلف نہیں تھا۔ مگر بجائے کئی سنی باتوں کے آپ بلوچستان کے معروف ادیب ڈاکٹر شاہ محمد مری کی کتاب (اقتدار کے ایوانوں میں) بلوچستان کے حالات جاننے کے لیے ضرور مطالعہ کریں۔
70ءکی دہائی میں پیپلز پارٹی وفاق میں برا جمان تھی اور آج بھی وفاق کا حصہ ہے مگر تب نیپ کی حکومت تھی، آج براہ راست بلواسطہ پیپلز پارٹی کی بلوچستان میں حکومت ہے اور وہی جون، بجٹ پیش کرنے کے بعد وہی پیپلز پارٹی، مگر کیا ایک دفعہ پھر جولائی پیپلز پارٹی کو اقتدار کے ایوانوں سے چھٹی دلائے گا؟
بلوچستان کی موجودہ کابینہ میں کئی ن لیگی رہنماﺅں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پیپلز پارٹی سے ڈھائی سالہ معاہدہ طے شدہ ہے۔
جون 2027ءکا بجٹ گزرنے کے بعد جولائی کے مہینے میں سیاسی نورا کشتی بڑھنے لگی ہے۔
جہاں حالیہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگ کو بلدیہ الیکشن پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ اقتدار سے نکل جانے کا بھی کہا اور حالیہ آزاد کشمیر کے ہونے والے الیکشن میں بھی پیپلز پارٹی نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ روابط قائم کیے، بجائے ن لیگ کے جو اس کے ساتھ وفاق میں بیٹھی ہے، مگر یہ قبل از وقت ہے۔ پیپلز پارٹی کی بلوچستان سے باآسانی حکومت ختم کی جائے گی؟، صدر پاکستان آصف علی زرداری جذبات کی نہیں عقل کی سیاست کرتے ہیں، اس لیے تو وہ پاکستان کی سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی مثال ہیں، ان کے بغیر پاکستانی سیاست نامکمل ہے۔
اگر ن لیگ پیپلز پارٹی کی بلوچستان سے چھٹی کرائے گی تو، پیپلز پارٹی ن لیگ کی وفاق سے، کیونکہ یہی سیاست ہے، یہی کہانی ہے۔
دوسری جانب یہ باتیں زیر گردش ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ پیپلز پارٹی اگر کشمیر میں اتحاد قائم کرکے حکومت کرتی ہے تو بلوچستان میں پیپلز پارٹی جمعیت علماءاسلام (ف) کو بھرپور سیاسی سپورٹ کرے گی۔
آخر سیاسی جماعتیں چاہتی کیا ہیں، بلوچستان کو کہاں لے کر جانا چاہتی ہیں، کون سی سیاسی پارٹی بلوچستان کے موجودہ حالات سدھارنے کی ہمت رکھتی ہے!
جولائی رہا ہر دور میں باکمال!
بجھتی رہی بچتی رہی سیاست دانوں کی سیاست بال بال!


