نصیرآباد، چھتر ندی میں سیلابی ریلے سے کئی دیہات زیر آب، صحبت پور میں شاہراہ پانی کی نظر ہوگئی، کئی علاقوں سے رابطہ منقع
نصیرآباد (یو این اے) نصیرآباد کے مختلف علاقوں، تحصیل چھتر، فلیجی، تحصیل میر حسن، یونین کونسل شوری ڈرابی اور ملحقہ علاقوں میں حالیہ سیلابی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سیلابی ریلوں کے باعث لوگوں کے گھر، مال مویشی، فصلیں اور ذخیرہ شدہ اناج بہہ گئے، جس کے باعث متعدد خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ نصیرآباد کے علاقے ربیع کینال اور یونین کونسل شوری ڈرابی بیرون میں تحصیل چھتر سے آنے والے شدید سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں گھر زیرِ آب آگئے اور متعدد خاندان بے گھر ہوگئے۔ متاثرین کے مطابق سیلابی پانی داخل ہونے سے گھروں، سامان اور روزگار کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ شدید گرمی اور بے سروسامانی کے عالم میں خواتین، بچے اور بزرگ گزشتہ دو روز سے آسمان تلے انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ نصیرآباد سے فوری طور پر خوراک، پینے کے صاف پانی اور خیموں کی فراہمی کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب صحبت پور میں تین صوبوں کو ملانے والی سڑک پانی کی نظر ہوگئی، علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ صحبت پور کی تِحصیل حیردین سے چند فرلانگ کے فاصلے پر تین صوبوں بلوچستان، سندھ اور پنجاب کو ملانے والی قومی شاہراہ فیض ٹو پانی کی نظر ہوگئی جس کی وجہ سے گورناڑی سمیت بہت سے علاقوں کا زمینی رابطہ صحبت پور سے منقطع ہوچکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈالے گئے پائپ ٹوٹ چکے۔


