ماضی میں جو سرکاری سردار بنائے گئے ان کا وجود اب کہیں نظر نہیں آتا، جن فیکٹریوں میں جعلی نواب، سردار اور لیڈر بنائے جاتے ہیں ان کی پیداوار کو ترک کیا جائے، بلوچستان کے موجودہ ابتر حالات ریاستی جبر کی پیداوار ہیں، نواب اسلم رئیسانی
مستونگ (نامہ نگار) چیف آف سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی کی زیر صدارت سرداران سراوان کا اجلاس سراوان ہاﺅس میں اتوار کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف آف بیرک نواب محمد خان شاہوانی، سردار کمال خان بنگلزئی، سردار عظیم جان محمد شہی، سردار عاصم جان سرپرہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز، غیر ذمہ د ارانہ اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان تہہ در تہہ الجہاد، مصائب، مشکلات، غیر یقینی صورتحال، بے روزگاری، نا انصافی، اقربا پروری، بدامنی اورکرپشن جیسے ناسور سے دوچار ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچ نوجوان صرف چند روپوں کے لیے بارڈر ٹریڈ سے چند لیٹر ڈیزل لیکر آتے ہےں جس سے اس کے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رہتا ہے لیکن اس ڈیزل کا بھی سب سے بڑا منافع خود ریاستی ادارے یا ان کے چند ذمہ دار اشخاص ہوتے ہےں جو بارڈر کو کنٹرول کرتے ہےں۔ صرف ٹوکن کی مد میں کتنا رقم کمایا جاتا ہے اس سے بلوچستان کا ہر ذی شعور شخص آگاہ ہے۔ دوسری جانب اگر بلوچستان میں منشیات یا دیگر غیر قانونی اشیاءکی اسمگلنگ ہوتی ہے تو یقیناً اس کی حیثیت پر حقیقتاً وہ طاقتور ادارے یا اشخاص ہوسکتے ہےں یا جن کی ذمہ داری اس کا روکنا اور تدارک کرنا ہوتا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ جس سردار یا نواب نے مقتدرہ سے مراعات لی ہےں یا انہیں بلیک میل کررہا ہے تو اس کا نام بلوچستان کے عوام کے سامنے لایا جائے۔ اجلا س میں کہا گیا کہ بلوچستان میں15ویں صدی میں قبائلی نظام نے بلوچ قومی تشخص کو جنم اور بلوچ قومی وحدت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا اور صدیوں سے اس قومی وحدت کی حفاظت اور دفاع کررہا ہے۔ یہی نظام عوام کے جان و مال، عزت و آبرو ننگ و ناموس اور وطن کا محافظ اور نگہبان رہا ہے۔ یہ وطن اور وحدت کسی نے ہمیں خیرات یا بخشش میں نہیں دی بلکہ یہ ہمارا نظام اور روایات کسی بھی مظلوم کو ظلم سے پناہ دیتی اور ظالم کا ہاتھ روکتی ہے اور یہی ہماری تاریخی روایات کا امین ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے روایات اور نظم کے خلاف گہری اور مذموم کوشش کی جاتی رہی ہیں اور ہماری اقدار روایات کو روندتے ہوئے سرکاری سردار بنائے گئے لیکن آج ان سرکاری سرداروں کا کوئی وجود کہیں نظر نہیں آتا، کیونکہ ہمارے نظم کی جڑیں عوام میں پیوست ہیں اگر ہماری روایات اقدار اور نظم میں کوئی سقم ہوتا تو عوام اس کے کیونکر محافظ ہوتے۔ اجلا س میں کہا گیا کہ پندرہویں صدی سے بلوچستان میں ہمارا نظم اور قومی وحدت موجود ہے، اس وقت دور دور تک انگریز یا سنڈیمن کوئی نام و نشان موجود نہیں تھا۔ بعض سازشی عناصر بلوچستان کے قبائلی نظم کو سنڈیمن سے جوڑ کر ہماری تاریخ کو مسخ کرنے کی گھناﺅنی کوشش کررہے ہےں، ہمارا وطن ہمارے آباﺅ اجداد نے بیش بہا قربانیوں کے نتیجے میںحاصل کیا ہمارا منصب کسی ریاستی طاقت کے سہارے کا محتاج نہیں، یہ ہماری قوموں کی امانت ہے، یہاں کا چپہ چپہ ہمارے اقوام کی ملکیت ہے، ہمیں کسی نے نہ تو جاگیر عطا کی نہ ہی بخشش، جن کو بر صغیر میں انگریزوں نے وفا داری اہل وطن سے غداری کے عوض جاگیریں عطا کیں وہ بلوچ وطن سے کہیں دور بستے ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ملک میں بھتہ گیری کا کلچر مقتدرہ نے ہی متعارف کروایا ہے۔ ہاں اگر اسٹیبلشمنٹ نے کسی سردار یا نواب کو مراعات یا بھتہ دیا ہے تو ان کے نام اہل وطن کے سامنے لائے جائیں، جہاں تک بات بلوچستان کے عوام کی ہے تو وہ جعلی سردار، جعلی نواب، جعلی لیڈرز، بھتہ گیروں، عوام دشمن، وطن فروش اور ڈرگ مافیا سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ مقتدرہ بلوچستان کے لاپتا افراد، مسخ شدہ لاشوں، کرپشن، ڈکیتی، ماورائے آئین و عدالت اقدام کی روک تھام کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے بین الاقوامی دنیا انسانی حقوق کی تنظیموں اور پاکستان کی محکوم اقوام کو اصل حقائق کی بجائے خود ساختہ بیانیہ کا چورن فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس وقت مقتدرہ کا تخلیق کردہ ہائبرڈ نظام موجود ہے، جہاں نہ عدلیہ آزاد ہے نہ میڈیا، فارم 47 کی پارلیمنٹ کو مقتدرہ ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ اگر موجودہ حکومت ناکامی سے دو چار ہے تو اس کا مکمل ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ اور اس کے ہواری ہےں۔ اجلاس میں نئے صوبوں کی مجوزہ بحث کو شر انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہونا چاہےے کہ پاکستان نے صوبے نہیں بلکہ قومی وحدتوں نے ملکر پاکستان کی تشکیل کی ہے۔ موجودہ صوبے انتظامی یونٹ نہیں بلکہ یہ قومی وحدتیں ہیں جن کی اپنی تاریخ، جغرافیہ، ثقافت، زبانیں اور اقدار ہےں۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہےے کہ ایسے ہی ایک تجربے نے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا دیا۔ مزید ایسے تجربات ملک میں خونریزی اور انارکی کا باعث ہوںگی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ملک میں غداری کا سرٹیفکیٹ قیام پاکستان سے بانٹنا ایک معمول سی بات بن گئی ہے۔ فاطمہ جناح، مجیب الرحمن، باچا خان، جی ایم سید سمیت ملک کے قوم دوست اور جمہوریت پسند قیادت کو غدار قرار دینا نئی بات نہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اب بھی وقت ہے کہ مقتدرہ اپنی نا عاقبت اندیشی کو ترک کرکے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند کر دے۔ سماجی نظم کے خلاف مضحکہ خیز ریاستی پروپیگنڈا بند کرکے بلوچستان کے حقیقی مسائل پر توجہ دے۔ بلوچستان کے قبائلی نظام کو پراگندہ کرنے کی مذموم کوششیں بند کرے اور جن فیکٹریوں میں جعلی سردار، جعلی نواب اورجعلی لیڈر بنائے جاتے ہےں ان کی پیداوار کو ترک کردے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان کے موجودہ ابتر حالات ریاستی جبر کی پیداوار ہےں، ریاست اپنے غلط عمل سے بری الذمہ نہیں ہے۔


