غزہ میں ہر رات 30 سے 40 فلسطینیوں کو قتل کیا جائے، اسرائیلی وزیر کا اشتعال انگیز بیان
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اور انتہائی دائیں بازو کے رہنما اتمار بن گویر نے غزہ کے حوالے سے ایک بار پھر انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے اسرائیلی فوج پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کارروائیاں صرف فوری خطرہ بننے والے افراد تک محدود نہ رکھے بلکہ ہر رات 30 سے 40 افراد کو قتل کرے۔ بن گویر نے یہ بات سابق فلسطینی اسلامی جہاد کے قیدی روم براسلاوسکی کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جن کے بارے میں ان کے خیال میں انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے۔بن گویر نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں فوجی حملوں میں کمی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مو¿قف اختیار کیا کہ اسرائیلی فوج کو ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے جو فوری طور پر اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں بن رہے۔اسرائیلی وزیر نے صرف فوجی کارروائیوں میں اضافے کی بات نہیں کی بلکہ غزہ میں اسرائیلی بستیوں کے قیام کی حمایت بھی کی۔انہوں نے غزہ کے پورے علاقے پر اسرائیلی دعوے اور وہاں یہودی بستیوں کی دوبارہ تعمیر کی حمایت کا اظہار کیا۔اس سے قبل بھی غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی اور علاقے میں یہودی بستیوں کے قیام کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ جولائی میں بھی وہ اسرائیلی وزرا اور آبادکاروں کے ہمراہ غزہ کے قریب ایک مارچ میں شریک ہوئے تھے، جس میں غزہ میں یہودی بستیوں کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیر ایک ہی وقت میں فلسطینیوں کی بے دخلی اور غزہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی بات کر رہے ہیں۔بن گویر کے ان بیانات کو ثبوت کے طور پر محفوظ کیا جانا چاہیے اور ان کا ریکارڈ برقرار رہنا چاہیے تاکہ مستقبل میں اسرائیلی حکام کے احتساب اور مقدمات کے دوران انہیں پیش کیا جاسکے۔بن گویر کے تازہ بیان پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی مخصوص علاقے میں رہنے والے لوگوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانے اور انہیں بے دخل کرنے کی باتیں بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی جنگی پالیسی پر اس سے قبل بھی شدید بین الاقوامی تنقید سامنے آتی رہی ہے، تاہم بن گویر کی جانب سے غزہ میں مستقل اسرائیلی موجودگی اور یہودی بستیوں کے قیام کی حمایت ان کے پہلے سے موجود سخت گیر مو¿قف کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے۔


