حب میں مہنگائی بے قابو، اشیاءخوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی، انتظامیہ غائب
حب(نمائندہ انتخاب ) حب میں مہنگائی بے قابو،اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ، آٹا ،چینی ،گھی ،سمیت گوشت اور سبزیوں و پھلوں کی قیمتوں کو پر لگ گئے ،منافع خور اور ذخیر اندروز تاجروں کی چاندی لگ گئی ،روزمرہ کی کھانے پینے کی اشیائ غریب طبقہ کی پہنچ اور قوت خرید سے دور ہو گئی اورحب کے عوام کو منافع خور ذخیر اندوز تاجروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مہنگائی پر کنٹرول اور سرکاری پرائس لسٹ پر عملدر درآمد کرانے اور تجاوز نرخوں پر اشیاء خور دونوش فروخت کرنے والے دکانداروں ،تاجروں ،ہوٹل مالکان کے خلاف کاروائیاں کرنے کے حوالے سے نوٹس صرف کاغذاری کاروائیوں تک محدود اس حوالے سے بتایا جاتاہے کہ حب شہر میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کے لیے عذاب بن چکا ہے آٹا، چینی، دالیں، گھی، سبزیاں اور پھل غریب کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔گراں فروش مافیا کھلے عام لوٹ مار میں مصروف ہے جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹی عوام کے دکھوں سے مکمل طور پر بے پرواہ ہو چکا ہے غریب مزدور اپنے بچوں کے لیے روٹی کے چند نوالے خریدنے سے بھی قاصر ہے روزانہ محنت مزدوری کرنے والا طبقہ مہنگائی کی اس طوفانی لہر میں پس کر رہ گیا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حب شہر میں مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، نہ ہی منافع خوروں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور نہ ہی مہنگائی کے مارے غریب دھاڑی دار طبقہ لوگوں کو ریلیف مل رہا ہے غریب عوام دن بدن غربت کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں، مگر حکام صرف تصویری نشستوں اور بیانات تک محدود ہیں حب کے تاجروں کی من مانی قیمتیں عوام کی برداشت سے باہر ہو چکی ہیں ایک طرف بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے مزدور طبقے کی کمر توڑ دی ہے، تو دوسری طرف اشیائے خوردونوش کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے عوام کی امیدیں بھی ختم کر دی ہیں آخر حب کے عوام کب تک منافع خوروں کے رحم و کرم پر رہیں گے عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان ڈپٹی کمشنر حب سے فوری نوٹس لینے، گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غریب اور مزدور طبقے کو کچھ ریلیف مل سکے۔


