بارڈر پورے کیچ کے عوام کا مسئلہ، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، آل پارٹیز کی تقسیم المیہ ہے، ڈاکٹر اسماعیل بلیدی
تربت (نامہ نگار) سابق سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے کہا ہے کہ بارڈر پورے ضلع کیچ کے عوام کا مسئلہ ہے، اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، آل پارٹیز کیچ کا بارڈر کے نام پر تقسیم ہونا انتہائی افسوسناک اور بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش نے کیچ کے عوام کو نانِ شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے، شہری خوف اور ڈر کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں اسمبلی کے فلور پر بھی اس اہم مسئلے کو مو¿ثر انداز میں اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ آج کے دھرنے میں شہریوں کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بارڈر کی بندش کا مسئلہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت یا گروہ کا نہیں بلکہ پورے عوام کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام مختلف خدشات اور خوف کا سامنا کر رہے ہیں، مگر یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ لوگ کس چیز سے خوفزدہ ہیں۔سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اختلافات ختم کرکے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں اور بارڈر کی بحالی اور امن و امان کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ اگر ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرکے عوامی مسائل کو دبایا جاسکتا ہے تو یہ درست طرزِ عمل نہیں، کیونکہ بارڈر کی بندش براہِ راست ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور معاشی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ گوادر، پنجگور، تفتان اور چمن کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھلے ہیں، لیکن گزشتہ تقریباً دو سال سے ضلع کیچ کا کراسنگ پوائنٹ بند ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیچ کے عوام کا آخر کیا قصور ہے کہ ان کے لیے بارڈر بند کردیا گیا ہے۔ عبدوی یا جالگی کراسنگ پوائنٹ کو فوری طور پر کھولنے کا اعلان کیا جائے۔ طویل عرصے تک بارڈر بند رہنے کے باعث شہریوں کے معاشی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور بعض لوگ منفی سرگرمیوں اور غیر قانونی راستوں کی طرف جانے پر مجبور ہورہے ہیں، جبکہ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے نیک شگون نہیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے بارڈر کھولنے کے معاملے پر جلد سنجیدہ فیصلہ نہ کیا تو سخت لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ بلیدہ اور زامران میں تحریک شروع کی جائے گی اور عبدوی یا جالگی کراسنگ پوائنٹ کھولنے کے اعلان تک دھرنا جاری رکھا جائے گا، خواہ اس کے لیے مرتے دم تک دھرنا کیوں نہ دینا پڑے۔ اس کے بعد مکران بچاو¿ تحریک کا اعلان کیا جائے گا، جس میں تربت، گوادر اور پنجگور کے عوام کو متحد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکران کے تینوں اضلاع کے عوام مل کر امن و امان کی بحالی، بارڈر کی بحالی اور عوام کے معاشی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گے تاکہ مکران میں بدامنی کا خاتمہ ہو اور مسخ شدہ لاشیں گرنے کا سلسلہ بند ہو۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر وقت عوام کے درمیان موجود ہیں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، عوام کے حقوق کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے ساو¿تھ بلوچستان کے نئے تعینات ہونے والے آئی جی کے حوالے سے کہا کہ ان کی تعیناتی مکران کے عوام کے لیے ایک آزمائش ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ مکران کے عوام کے مسائل کو سمجھتے ہوئے بارڈر کھلوانے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث عوام نانِ شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں، معاشی مشکلات شدت اختیار کرگئی ہیں اور لوگ انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کی مشکلات کا فوری نوٹس لے، بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھولے اور کیچ کے عوام کو روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عبدوی یا جالگی کراسنگ پوائنٹ فوری کھولا جائے، بصورت دیگر بلیدہ و زامران سے تحریک شروع اور مکران بچاو¿ تحریک کا اعلان کریں گے، مرتے دم تک دھرنا جاری رکھیں گے۔


