سوراب میں چوری و ڈکیتی کے خلاف دکانداروں کا احتجاج، کوئٹہ کراچی آر سی ڈی روڈ دو گھنٹے سے بند، مذاکرات کے دو دور ناکام
سوراب (رپورٹ رشید عاطف) سوراب شہر میں مسلسل چوری، ڈکیتی اور رات کے اوقات میں دکانوں کو لوٹنے کے واقعات کے خلاف دکانداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مین آر سی ڈی روڈ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو تقریباً دو گھنٹے سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سوراب شہر اور گردونواح میں گزشتہ کچھ عرصے سے چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ رات کے اوقات میں دکانوں کے تالے توڑ کر قیمتی سامان اور نقدی لوٹنے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تاجروں کے مطابق مسلسل وارداتوں کے باعث کاروباری طبقہ شدید خوف و تشویش میں مبتلا ہے۔احتجاج کے دوران ایس ایچ او سوراب محمد یونس محمد شہی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، تاہم مذاکرات کا ایک دور کامیاب نہ ہوسکا اور مظاہرین نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر گدر عبدالجبار بگٹی نے بھی احتجاجی تاجروں سے مذاکرات کیے، تاہم یہ مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے اور مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک شاہراہ کھولنے کے لیے تیار نہیں۔ سوراب پولیس امن و امان برقرار رکھنے اور چوری و ڈکیتی کی وارداتوں پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ تاجروں نے مطالبہ کیا کہ شہر میں سکیورٹی کے مو¿ثر انتظامات کیے جائیں، چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہریوں و تاجروں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ہم اب ایس پی سوراب کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ مظاہرین نے دوٹوک مو¿قف اختیار کیا کہ مطالبات کی منظوری تک مین کوئٹہ کراچی آر سی ڈی روڈ نہیں کھولا جائے گا۔ دوسری جانب چوری و ڈکیتی کے خلاف سوراب بازار میں بھی شٹر ڈاو¿ن ہڑتال جاری ہے، جس کے باعث شہر کی بیشتر دکانیں بند ہیں اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ہم امن و امان کی بحالی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی و قانونی طریقے سے آواز بلند کرتے رہیں گے۔


