نوشکی، گلوبل ٹییچرز کا مستقلی کے لیے احتجاجی مظاہرہ

نوشکی (نامہ نگار )گلوبل پراجیکٹ کے خواتین ٹیچرز کی اپنی مطالبات کے حق میں نوشکی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے تنخواہوں کی بندش اور حکومتی جھوٹی وعدوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اسموقع پر شرکاء سے خطاب کرتی ہوئی گلوبل پراجیکٹ کے خاتون ٹیچر عمیرہ بلوچ نے کہا کہ 2015میں گلوبل پراجیکٹ کے تحت سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لیے بلوچستان بھر میں پندرہ سو کے قریب اساتذہ کو تعینات کرکے ان کے ساتھ مستقلی کے معائدے کیے گئے لیکن پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال حکومت گلوبل اساتذہ کی مستقلی میں تاخیری حربے استعمال کرکے اساتذہ خاتون اساتذہ کو روڈوں پر نکلنے پر مجبور کر رہی ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں گلوبل پراجیکٹ کے اساتذہ کی احتجاجی کیمپ میں صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر تعلیم سردار یار محمد رند اور ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سرار بابر موسی خیل نے گلوبل پراجیکٹ کے خواتین اساتذہ کو مستقلی اور تنخواہوں کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی مگر چھ ماہ گزرنے کے باوجود نہ تنخواہیں دی گئی اور نہ ہی مستقلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جسکی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومتی اعلیٰ زمہ داران وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور چیف سیکرٹری بلوچستان. وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ گلوبل پراجیکٹ اساتذہ کو فوری طور پر مستقل کرکے انکی تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں بصورت دیگر ہم اپنی احتجاج کو مزید وسعت دینگے.

اپنا تبصرہ بھیجیں