افغان حکومت معاہدے کوسنجیدہ نہیں لے رہی،طالبان کا الزام
دوحہ /کابل:افغان حکومت کے طالبان سے مذاکرات کے لیے دوحہ میں موجود مذاکراتی ٹیم کے رکن نے کہاہے کہ امریکا طالبان معاہدے کے لیے افغان حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کابل نے امریکا طالبان کے معاہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ گرینڈ جرگہ کے فیصلے کے مطابق 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا، یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے قیدیوں کو رہا نہیں کیا۔دوسری جانب طالبان نے افغان حکومت اور اس کے مغربی اتحادیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ گزشتہ سال طے پانے والے معاہدے پر عمل نہیں کر رہے جس میں قیدیوں کی رہائی اور غیر ملکی افواج کی واپسی شامل ہیں۔دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ قطری دارالحکومت میں انٹرا افغان بات چیت کے آغاز کے تین ماہ بعد تمام طالبان قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا۔صدر اشرف غنی کی سربراہی میں افغان حکومت پر تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے طالبان عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسے (پانچ ماہ سے زیادہ)عرصہ گزر چکا ہے اور انہوں نے ایک بھی قیدی رہا نہیں کیا ہے۔طالبان عہدیدار نے بقیہ امریکی افواج کے انخلا میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کیونکہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن کی نئی امریکی انتظامیہ فروری 2020 میں ہونے والے دوحہ معاہدے پر نظرثانی کر رہی ہے۔طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارا امریکا کی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہے اور ہم ان سے معاہدے کی پاسداری کی توقع کرتے ہیں، طالبان تحریری معاہدے کے پابند ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی ایسا ہی کرے گا۔دوحہ میں افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ کابل نے امریکا طالبان کے معاہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ گرینڈ جرگہ کے فیصلے کے مطابق 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا، ‘یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے قیدیوں کو رہا نہیں کیا۔تاہم طالبان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں انٹرا افغان مزاکرات کے ذریعے تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


