امریکہ نے جمال خشوگی کے قتل کا زمہ دار محمد بن سلمان کو قرار دے دیا
واشنگٹن (انتخاب نیوز)امریکہ میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات پر مبنی خفیہ رپورٹ کو جاری کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے جس کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ اس رپورٹ میں قتل کا الزام سعودی ولی عہد شہزادے محمد بن سلمان پر عائد کیا گیا ہے۔امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر نے یہ رپورٹ پڑھ لی ہے اور اب وہ سعودی عرب کے فرما روا شاہ سلمان سے جلد بات کریں گے۔صدر بائیڈن سعودی عرب سے امریکہ کے تعلقات کو ’از سر نو ترتیب دینے‘ کا ارادہ رکھتے ہیں۔امریکی صحافی اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے جمال خشوگی کو سنہ 2018 میں استنبول کے سعودی سفارت خانہ میں بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ سعودی عرب کے سفارت خانے کی عمارت کے اندر سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں ہونے والے اس قتل میں ملوث ہونے کے تمام الزامات کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تردید کی تھی۔سعودی حکام نے کہا تھا کہ سعودی ایجنٹس کی ایک ٹیم کو جمال خشوگی کو سعودی عرب لانے کے لیے بھیجا گیا تھا اور اس کارروائی کے دوران صورت حال بگڑ جانے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے۔سعودی عرب کی ایک عدالت نے اس قتل کے جرم میں پانچ اہلکاروں کو موت کی سزا سنائی تھی لیکن گزشتہ سال ستمبر میں ان کی سزا میں کمی کر کے اس کو 20 سال قید میں بدل دیا گیا تھا۔اس رپورٹ کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اسے جمعرات کو کسی وقت عام کر دیا جائے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے چار نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمال خشوگی کے قتل کی منظوری دی اور ’ممکنہ طور پر احکامات‘ جاری کیے تھے۔ان حکام نے مزید کہا ہے کہ جمال خشوگی کے قتل کی رپورٹ کا زیادہ حصہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی آے کی تحقیقات پر مشتمل ہے۔سعودی عرب میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اس قتل کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ لیکن سنہ 2019 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کیونکہ یہ قتل سعودی اہلکاروں کی غفلت سے ہوا ہے اس لیے وہ سعودی عرب کی حکومت کے ایک اہم ترین رکن ہونے کی حیثیت سے اس قتل کی ذمہ دار قبول کرتے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے اطلاع دی ہے کہ خفیہ اداروں کا یہ تجزیہ کوئی نیا نہیں ہے اور یہ سی آئی اے کی تحقیقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس کو سنہ 2018 میں وسیع پیمانے پر شائع کیا گیا تھا جس کی بعد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تردید کر دی تھی۔اس تجزیے میں کہا گیا تھا کہ محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے لیکن امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس نوعیت کی کارروائی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ جس کے لیے جمال خشوگی کام کرتے تھے، کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کی تحقیقات کی بنیاد وہ فون کالیں ہیں جو امریکہ میں سعودی سفیر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھائی خالد بن سلمان نے قتل کے بعد کی تھیں۔شہزادہ خالد جو ملک کے نائب وزیر دفاع بھی ہیں مبینہ طور پر انھوں نے اپنے بھائی محمد بن سلمان کی ہدایت پر جمال خشوگی کو فون کر کے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ استنبول کے سعودی سفارت خانے چلے جائیں اور انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ شہزادہ خالد نے جمال خشوگی سے بات کرنے کی تردید کی تھی۔سنہ 2019 میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ایگنس کالامرڈ نے سعودی عرب کی ریاست پر جمال خشوگی کو ’سوچ سمجھ کر‘ قتل کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور اس قتل کے مقدمے کو انصاف کے ساتھ ایک مذاق قرار دیا تھا۔


