کوہلو میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے سے مقامی افراد کےلئے خطرہ منڈلانے لگا
تحریر،،، رپورٹ طاہرمری
حکومتوں کی غلط پالسیوں اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سےبلوچستان میں پانی کا مسئلہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا لوگ بول بول کے تھک گئے اور حکومتی ارکان سن سن کے دوسرے کان سے نکالتے چلے جاتے ہیں ویسے تو بلوچستان کے کئی شہروں میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں اور جو پانی گھروں میں آتا ہے وہ پینے کے لائق نہیں۔
جانور اور انسان سبھی ایک گھاٹ سے پانی پیتے ہیں صوبے کے دور دراز اور پسماندہ ضلع کوہلو میں بھی کئی عرصے سے پانی کے قلت کا مسلئہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے مقامی افراد کےلئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گرتی جارہی ہے جس سے یہاں کے مقامی افراد کی زندگیوں کیلئے خطرات منڈلانے لگے ہیں 2 لاکھ سے زائد نفوس کی آبادی پر مشتمل ضلع کوہلو میں پانی کا مسئلہ دن بدن سنگین صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے جس کی بنیادی وجہ زیر زمین پانی کی سطح کا تیزی سے گرنا ہے تشویشناک عمل یہ ہے کہ اس مسلئے کو سنجیدہ لینے کیلئے ضلع کے سنجیدہ اور ذمہ دار لوگ غیر سنجیدگی سے کام لے رہے ہیں واٹر سپلائیوں کی بھر مار،غیر قانونی بورنگ اور مستقیل حکمت عملی نہ ہونے کے باعث حالات سنگین ہوچکے ہیں گزشتہ 5 سالوں کے عرصے میں پانی کی زیر زمین سطح28 فٹ تک گرچکی ہے جس سے اس وقت پانی کا حصول ضلع کے مختلف علاقوں میں امتحان بن چکا ہے تین دہائی قبل کے اگر آج کے دور سے موازانہ کیا جائے تو چونکا دینے والے اعدادو شمار سابق حکومتوں کی غیر سنجیدگی کا پول کھول دیتے ہیں 35سال قبل کوہلو کے اکثر و بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح 40فٹ تک تھی مگر اب یہ سطح 250سے400 فٹ تک گر چکا ہے پانی کی سطح گرنے سے اب زیر زمین پانی پینے کے قابل نہیں رہا ہے پانی میں آرسینک اور تیل کے اضافے سے اس وقت ضلع میں لوگوں کو کئی بیماریوں کا سامنا ہے جس میں بلخصوص معدہ،گردے،
مثانہ،پیٹ میں گیس،دل کے امراض سمیت دیگر بیماریاں شامل ہیں محکمہ صحت کوہلو کے حکام کے مطابق آج سے 25 سال قبل کوہلو میں زیر زمین پانی کے معیار چیک کرنے کیلئے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے اسلام آباد بھیجے گئیں تھے جو کوہلو کے مختلف علاقوں سے حاصل کیئے گئیں تھے 17 علاقوں میں سے صرف ڈومباکہ اور لاسی زائی میں قدرتی چشمے سے نکالنے والا پانی پینے کے قابل قرار پایا تھا جبکہ باقی علاقوں کا پانی پینے کے قابل ہی نہیں تھا کوہلو تحصیل،تمبو,گرسنی،اوریانی،
کرم خان،سردار شہر، ملک زائی،ماوندسمیت مختلف علاقوں میں پانی تیزی سے ناپید ہوتا جارہا ہے آج کےجدید دور میں میوند,کاہان ,گرسنی سمیت مختلف علاقوں میں انسان اور جانور ایک ہی تالاب اور جوہڑ سے پانی پینے پر مجبور ہیں آبی ماہرین کے مطابق پانی کے حصول کیلئے طریقہ کار اور واضع پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے بورنگ سے پانی تیزی سے نکالا جارہا ہے زمینداروں اور شہریوں کی جانب سے پانی کے زیادہ حصول کی کوششوں سے مسئلہ مزید بگڑ تا جارہا ہے جس کے باعث خدشہ ہے کہ آنے والے سالوں میں پانی کی صورت حال مزید گھبیر ہوگی اور پانی کے مسائل کے ساتھ ساتھ غذائی قلت کاخطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے جبکہ گزشتہ 30 سالوں کے طویل عرصے میں صوبائی حکومت اور عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی سے ضلع میں ڈیموں کی تعمیر ممکن نہیں ہوسکی ہے اس سے پانی کی گرتی سطح کو کنٹرول کیا جاسکتا تھا تاہم ماضی میں صدراتی ترقیاتی پیکچ کے تحت بنائے گئیں اکثرو بیشتر ڈیم بھی غیر معیاری میٹریل کی وجہ سے یا تو خود پانی میں بہہ گئے ہیں اگر موجود ہیں بھی تو اس قابل ہی نہیں ہیں کے پانی کو وافر مقدار میں سٹور کرسکیں جس سے سال بھر بارشوں کے ہزاروں کیوسک پانی ضائع ہوجاتے ہیں بلوچستان کی صوبائی حکومت، حلقے کے ایم پی اے میر نصیب اللہ مری،ضلعی انتظامیہ کو زیر زمین پانی کی سطح کے گرنے کے سنگین مسلئے کو سنجیدگی سے لیکر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہونگے آبی ماہرین کے مطابق سب سے کار فرما بنیادی ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں بڑے معیاری ڈیم بنائے جائیں۔ اس سے کوہلو میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو 65 فیصد تک کنٹرول کیا جاسکے گا اس کے علاوہ بورنگ اور پانی ترسیل کے مشینوں کو رجسٹرڈ کروا نے کیساتھ زمینداروں کی تربیت کرنی چائیے کہ وہ کیسے کم پانی استعمال کرکے زیادہ پیداوار حاصل کرسکتے ہیں اس امر سے انکار نہیں کہ بارشیں نہ ہونے اور دیگر موسمی تبدیلوں کی وجہ سے پانی کا حصول پورے صوبے اور ملک کیلئے اس وقت چیلج ہے مگر کسی بھی مسلئے سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات بڑے نقصانات سے بچا سکتے ہیں اگر ضلع میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا تو آنے والے سالوں میں کوہلو کی ساری زمینیں صحرا میں بدل سکتی ہیں اور شہری پینے کے پانی کی بوند بوند کیلئے سرگرداں ہونگے۔


