کسان تحریک پر برطانوی پارلیمان میں بحث: بھارت کا شدید رد عمل
اسلام آباد(آن لائن)بھارت نے منگل نو مارچ کی شام کو نئی دہلی میں برطانوی سفیر کو طلب کر کے اس بات پر سخت احتجاج کیا کہ آخر برطانوی پارلیمان میں بھارتی کسانوں کی احتجاجی مہم پر بحث کیوں کی گئی؟ بھارتی حکومت نے کسانوں کی تحریک سے نمٹنے کے حوالے سے مودی حکومت پر برطانوی ارکان پارلیمان کی جانب سے نکتہ چینی کو دوسرے جمہوری ملک میں مداخلت قرار دیا ہے۔نئی دہلی میں خارجہ امور کے سکریٹری ہرش شرنگلا نے اس کے لیے نئی دہلی میں برطانوی سفیر الیکس ایلس سے ملاقات کی اور کہا کہ یہ تو، دوسرے جمہوری ملک کی سیاست میں صریح مداخلت ہے۔ برطانوی ارکان پارلیمان کو اس طرح سے ووٹ کی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر کو طلب کر کے بتا دیا گیا ہے کہ کاشت کاری سے متعلق بھارتی اصلاحات پر برطانوی پارلیمان میں اس طرح کی غیر ضروری اور جانبداربحث پر بھارت کو سخت اعتراض ہے۔لندن میں پیر آٹھ مارچ کو برطانوی پارلیمان کے ارکان نے بھارت میں کسانوں کے تحفظ اور پریس کی آزادی کے موضوع پر بحث کی تھی۔ اس میں لیبر پارٹی، کنزرویٹیو، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور اسکاٹش نیشنل پارٹی جیسی سیاسی جماعتوں سے وابستہ ارکان نے بھارت میں کسانوں کے تحفظ اور پریس کی آزادی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔حالانکہ بحث کے دوران بیشتر ارکان نے یہ بات تسلیم بھی کی کہ بھارتی حکومت کی زرعی اصلاحات بھارت کا اندرونی معاملہ ہے تاہم ان کا اصرار اس بات پر تھا کہ کسانوں کے احتجاج کے ساتھ جو رویہ بھارتی حکومت نے اپنا رکھا ہے وہ قابل افسوس ہے۔نوے منٹ کی اس بحث میں تقریبا 20 برطانوی ارکان پارلیمان نے شرکت کی تھی۔ اس کے اختتام پر برطانوی حکومت نے جواب میں کہا کہ جب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کریں گے، تب وہ اپنی نشویش کو ان تک پہنچا دیں گے۔یاد رہے کہ بورس جانسن جلد ہی بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔کسانوں کے بارے میں بحث پر سب سے پہلے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن نے یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا تھا کہ اسے اس،جانبدارانہ بحث پر افسوس ہے۔ اس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی شکل کو مسخ کرنے کے لیے بغیر ثبوت کے دعوے پیش کیے گئے۔بھارتی ہائی کمیشن کا کہنا تھا، بھارت میں برطانوی میڈیا سمیت دیگر بیرونی میڈیا بھی موجود ہے اور اس نے کسانوں کی تحریک کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ بھارت میں میڈیا کی آزادی کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔


