اسرائیل کامسئلہ مذہبی کم، قوم پرستی اورزمین کاتنازعہ ذیادہ ہے، مولانا شیرانی

کچلاک:جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنمامولانامحمدخان شیرانی نے کہاکہ سیاست اصلاح کا نام ہے بدقسمتی سے ملک میں سیاستدانوں نے ذاتی مفادات اورمورثیت کو دوام دینے کے لئے تجارت کی شکل دی ہیں، سیاسی فتویٰ بازی بعض مذہبی جماعتوں ؎کے اکابرین کاغصے اورگالی گلوچ ہوتی ہیں،جس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،،دھوکہ دہی،مصلحت پسندی اورخودغرضی کی سیاست نے جمعیت کو اصلاح کے بجائے منافقت،تجارت اورخیانت میں تبدیل کردیاہے،جمعیت کو اب مزدورکسان پارٹی کا نام دیکر کاروبارکریں،لیکن خدارااسلام کا نام بدنام نہ کریں،سوشل میڈیا دورحاضرمیں ذرائع ابلاغ کی اہم اورتیزترین ذریعہ ہے،کارکن سوشل میڈٖیا پر اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے مخالفین کی الزام تراشی کا جواب دلیل سے دیں،ان خیالات کا اظہارجمعیت علماء اسلام پاکستان کے زیراہتمام کچلاک میں "سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کی ذمہ داری اوراکیسویں صدی "کے عنوان سے منعقدکی گئی سیمینار سے مولانامحمدخان شیرانی،امین اللہ امین،مرکزی رہنماحاجی محمدصادق نورزئی،عصمت اللہ خان کاکڑ،حاجی نصرالدین کاکڑ،حاجی سنگین خان کاسی،عبدالعلی جمال،سمیع اللہ کاکڑ،نعمت اللہ مشعل،مولوی عبدالرشید دومڑ اوردیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہی،مقررین نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام ایک نظریات اور فکرکا نام تھا،لیکن بدقسمتی سے بعض عناصرنے ذاتی مفادات،عنادپرستی،اقرباء پروری کو دوام دینے اور موروثیت میں تبدیل کرنے کے لئے پارٹی،س،ن،ف،سمت مختلف ناموں اورگروہ میں تقسیم کرکے کھنڈرات میں تبدیل کردیاہیں،سیاست کومنافقت اورجہالت کی بنیادبنادیاہے،انھوں نے کہاکہ حالیہ سینیٹ الیکشن کی خریدوفروخت میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہب پرستوں نے بھی زکوٰۃاورخیرات کانام دیکر خوف مال کمایا،اگرپارلیمنٹرین اسمبلی کی حثیت سے عوام کی ووٹ کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ایک ایک ووٹ کو کروڑوں روپے میں فروخت کرتے ہیں توعوام کابھی حق بنتاہے کہ وہ ووٹ کے بدلے امیدواروں سے دام طلب کریں،انھوں نے کہااسرائیل کامسئلہ مذہبی کم، قوم پرستی اورزمین کاتنازعہ ذیادہ ہے، اسرائیل کے حوالے سے 1991ء کو یاسرعرفات کادورہ پاکستان کے موقع پر اقوام متحدہ کوموقف دہرایا،جماعتی کارکن اوراکابریں تب خاموش اورآج واویلا کیوں ہے؟ اسرائیل کے حوالے سے مذہبی جماعتیں اپنے کارکنوں کو گمراہ کررہے ہیں،انھوں نے کہاسوشل میڈیا دورحاضر میں اطلاعات ونشریات کا بہترین اورموثر ذریع ہیں،کارکنوں کو چاہیے کہ مخالفین کو جواب دلیل اورشائستگی سے دیں،اوراخلاقیات کادامن نہ چھوڑیں،کیونکہ مخالفین دلیل کے برعکس مخالفت،پیری ومریدی اورعنادپرستی کی بنیادپر گالی گلوچ اور تذلیل کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں