بھارت میں آزادی رائے پر قدغن، احتجاج: ماہرین تعلیم مستعفی

نئی (دہلی انتخاب نیوز) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی پر سوالیہ نشان ابھرنے لگا ہے۔ مفکروں اور اساتذہ کو دانش کدوں میں کھلی علمی گفتگو کرنے کی سزا مل رہی ہے۔ حال ہی میں ایک یونیورسٹی کے دو معروف ماہرین تعلیم مستعفی ہو گئے۔بھارت کے ایک چوٹی کے دانشور اور مودی حکومت کے سخت ناقد پروفیسر پرتاپ بھانو مہتا کے بعد بھارتی حکومت کے سابق مشیر برائے اقتصادی امور اروند سبرامنیم نے بھی اشوکا یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ یونیورسٹی کے طالب علموں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار اور ان نامور دانشوروں کے مستعفی ہونے کے فیصلے کے بعد احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں