سعودی عرب کی یمن میں جنگ بندی پیشکش، حوثی باغیوں کا انکار

ریا ض :سعودی عرب نے برسوں سے خانہ جنگی کے شکار عرب ملک یمن میں حوثی باغیوں کو ملک گیر جنگ بندی کی پیش کش کر دی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کے مطابق اس سیز فائر پر عمل درآمد کی نگرانی اقوام متحدہ کو کرنا چاہیے۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے آج پیر کے روز کہا کہ ان کے ملک نے عرب دنیا کی غریب ترین ریاست اور کئی برسوں کی ہلاکت خیز خانہ جنگی سے تباہ حال یمن کے لیے ایک نئی امن پیش رفت شروع کی ہے، جس کا مقصد وہاں جنگ کا خاتمہ ہے۔

اس پیش رفت کے تحت ایران نواز حوثی شیعہ باغیوں کو پورے یمن میں ایسی جنگ بندی کی پیش کش کی گئی ہے، جس کی نگرانی اقوام متحدہ کو کرنا ہو گی۔ مزید یہ کہ حوثی باغیوں کو صنعاء کے ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے اور حدیدہ کی بندرگاہ کے راستے ایندھن اور اشیائے خوراک کی درآمد کی اجازت ہو گی۔ صنعاء کا ایئر پورٹ اور حدیدہ کی بندرگاہ دونوں باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

پرنس فیصل بن فرحان السعود نے کہا کہ اسی پیش رفت کے تحت ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے ساتھ اپنے امن مذاکرات بھی بحال کرنا ہوں گے۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا، ”یہ نئی امن پیش رفت حوثی باغیوں کے اس پر اتفاق کر لینے کے ساتھ ہی مؤثر ہو جائے گی۔

یمن کی چھ سالہ خانہ جنگی میں ریاض حکومت کی حمایت یافتہ ملکی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی اس پیش کش پر اپنے فوری رد عمل میں کہا کہ نئی سعودی امن پیش کش میں تو کچھ بھی نیا نہیں ہے۔

اس موقف کے باوجود حوثی باغیوں کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار محمد عبدالسلام نے تاہم کہا کہ حوثی ریاض حکومت، مسقط اور واشنگٹن کے ساتھ اپنی بات چیت اس لیے جاری رکھیں گے کہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کسی نا کسی امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ کھلی رہے۔

محمد عبدالسلام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ”ہوائی اڈوں کو کھولنا اور بندرگاہوں کے دوبارہ استعمال کی اجازت یمنی عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد کے عمل میں ان کا حق ہے، جسے دباؤ کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں