خضدار میں 166اسکولز بند، بچے ناخواندگی کا شکار اور جہالت کی اندھیر نگری میں جارہے ہیں، میر یونس عزیز زہری
خضدار: جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی کونسل کے ممبر رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری نے انکشاف کیا ہے کہ خضدار میں 166اسکولز بند ہیں جن میں درس و تدریس نہیں ہورہی ہے جہاں یہ اسکولز قائم ہیں وہاں کے بچے ناخواندگی کا شکار اور جہالت کی اندھیر نگری میں جارہے ہیں، انہوں نے بلوچستان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کے ابتدائی دور میں صوبے کے تین اضلاع کے لئے میڈیکل کالجز کی منظوری ہوئی جن میں سے خضدارمیں قائم جھالاوان میڈیکل کالج خضدارتاحال التوا کا شکار ہے اور اسی طرح حکومت کی جانب سے خضدار میں خاموشی کے ساتھ ایک سے زائد تعلیمی اداروں کو ختم کیا جارہاہے، جس کی کسی بھی طرح اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں نے گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کیئے اور بلوچستان حکومت کی جانب سے خضدار کے ساتھ معاندانہ رویہ کو بھر پور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری کا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مذید کہنا تھاکہ خضدار میں قائم جھالاوان میڈیکل کالج تین سو بیڈ زپر مشتمل ہے اور اس پر 255ملین روپے خرچ ہوچکے ہیں جس کے لئے وسیع وعریض اراضی اس کے لئے مختص کردیا گیا ہے جس کی چار دیواری بھی تعمیر ہوچکی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک سازش کے تحت میڈیکل کالج کو ضم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے عارضی طور پر اس کے کلاسز وومن پولی ٹیکنیکل کالج میں ہورہے ہیں اسی طرح کی سازش وومن پولی ٹیکنیکل کالج کے بارے میں بھی ہورہی ہے کہ اس کو بھی ختم کردیا جائے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ کیونکر خضدار کو تعلیمی اداروں سے محروم رکھا جارہاہے اور وہاں بچوں کے تعلیمی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ بات سب پر عیاں ہونی چاہیئے کہ خضدار اس وقت اہمیت کا حامل ہے جو پورے بلوچستان کے لئے مرکزی شہر کی حیثیت اختیار کرچکا ہے تاہم حکومت اس ضلع اور اس کی نئی نسل کو تعلیمی اداروں سے محروم رکھنا چاہتی ہے دوسری جانب حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ ہم صوبے میں ایجوکیشن میں بہتری اور ترقی لارہے ہیں لیکن اس کے برعکس صرف ڈسٹرکٹ خضدا رمیں 166اسکولز بند ہیں اور بچے ناخواندگی کا شکار ہورہے ہیں حکومت اپنے ارادوں کو ترک کرے ورنہ جھالاوان کے عوام کی جانب سے انہیں بھر پور اندازمیں سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔


