وزیرخزانہ کی تبدیلی کافی نہیں
سینیٹ کے انتخاب میں شکست کے بعدعبدالحفیظ شیخ کوایوان کااعتماد حاصل نہیں رہا چنانچہ وزیر خزانہ کے عہدے پر برقرار رہنامشکل اور تبدیلی یقینی ہوگئی تھی۔ان کی جگہ وزیراعظم عمران خان نے حماد اظہر کوپاکستان کا نیا وزیر خزانہ مقرر کردیا ہے۔تحریک انصاف کے پونے تین سالہ دور میں تیسرے وزیر خزانہ ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی پر اس عہدے سے ہٹایا گیا ہے لیکن یہ وجہ ثانوی ہو سکتی ہے،بنیادی وجہ سینیٹ کے انتخاب میں شکست ہے۔وزارت خزانہ ایک اہم عہدہ ہے۔وزارت خزانہ کو کامیابی سے چلانے کے صلے میں عموماً ملک کا وزیر اعظم بننے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔پشت پر آئی ایم ایف جیسے طاقتور ادارے کا دست شفقت اضافی اہلیت سمجھا جاتا ہے۔ حماد اظہر کو مشکل وقت میں قلمدان سونپا گیا ہے۔کورونا کے علاوہ ملک کو بعض حقیقی اقتصاد ی چیلنجز کاسامنا ہے۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ایک بڑا مسئلہ ہیں۔پی ٹی آئی کو اپنے اقتدار کے آخری لمحات تک معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا ہے۔ماہرین معیشت کوئی متبادل معاشی حل دینے سے انکاری ہیں یا، دے ہی نہیں سکتے، ٹھوس قابل عمل پروگرام پیش کرنے کی بجائے صرف مفروضوں پر بات کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم یف کے پاس جانے میں جو تاخیر کی تھی اسے بھی اقتصادی مشکلات میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں اور وزیر اعظم کو بھی تسلیم کرنے پرمجبور کردی ہے کہ تاخیر ایک غلطی تھی۔بحث کہیں سے شروع ہو،وجوہات کی جتنی لمبی فہرست تیار کی جائے،یہ ایک علمی بحث ہو سکتی ہے مگر عوام مہنگائی کے جس عذاب سے طویل عرصے سے دوچار ہیں یہ علمی(یا غیر علمی) بحث عوام کوئی فائدہ نہیں دے گی۔عبدالحفیظ شیخ اپنی بھرپور صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے جو کر سکتے یقینا کیا ہوگا، مگر یہ بھی سچ ہے کہ پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ملک کی اقتصادی مشکلات کوسمجھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔عمران خان کے پاس شوکت خانم کینسر اسپتال جیسے بڑے منصوبے کی تعمیر و تشکیل سے لے کر برسوں تک کامیابی سے چلانے کا اعتماد تھا۔مگر مخیر حضرات کی جانب سے فرخدلانہ حمایت کے محرکات اور مضمرات سے وہ شاید اب بھی بے خبر ہیں۔آئی ایم ایف کے مشورے کی تعمیل کرتے ہوئے انہوں 140ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کر دی ہے جو طویل عرصے سے مخیر حضرات کو حاصل تھی۔تاہم انہوں نے شوکت خانم کیسر اسپتال اور ایدھی ٹرسٹ جیسے اداروں کے لئے استثناء دی ہے تاکہ اس فیصلے کی زد میں آکر یہ ادارے بند ہونے سے بچ جائیں۔ اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ مخیر حضرات جو فراخدلانہ عطیات، خیرات اور صدقات بعض خیراتی اداروں کودیتے ہیں وہ بھی عوام کے خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے،جسے وہ بھاری ٹیکس بچانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔خرابی ٹیکس وصولی کے فارمولہ میں ہے۔ٹیکس منافع کی مجموعی مالیت کے تناسب سے ایک ہی شرح سے وصول نہیں کیا جاتا۔ بلکہ اس کی مختلف سطحیں بنا دی گئی ہیں۔ہر سطح کے لئے ٹیکس کی شرح الگ ہے۔جیسے جیسے قابل ٹیکس منافع کی سطح بلند ہوتی ہے اس کے ساتھ ٹیکس کا فیصد تناسب بھی بلند ہوتاچلا جاتاہے۔یہی مسلسل بڑھتا ہوا ٹیکس چوری کا سبب ہے۔ ٹیکس کی بلند شرح کو کم رکھنے کے لئے صنعت کار اور تاجرحضرات خیراتی حربہ استعمال کرتے ہیں۔اکثر و بیشتر خیراتی ادارے ان کے اپنے چل رہے ہیں۔لہٰذا ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیتے ہیں۔قرآن میں ریاستی ٹیکس کی ایک ہی شرح ”خمس“ مقرر کی گئی ہے۔ سورۃ الانفال آیت41میں کہا گیا ہے جو کچھ تم مال غنیمت میں حاصل کرو اس کا 20فیصد اَللہ اور اس کے رسول (ریاست)کے لئے مقرر ہے۔ریاست اس آمدنی کو حکومتی مصارف کے علاوہ یتیموں، مساکین، اور مسافروں ((عوام)کی بہبود پر خرچ کرے گی۔واضح رہے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر میدان جنگ میں دشمن کو زیر کرکے مالِ غنیمت حاصل کرنا دنیا کامہنگا ترین کاروبارہے،جان جیسی قیمتی شے داؤ پر لگانے کے بعد یہ کمائی ممکن ہوتی ہے۔ باقی تمام کاروبار سامنے رکھیں تو وہاں صرف مالی نقصان ہوتا ہے۔جان محفوظ رہتی ہے۔قرآنی حکم کو ریاست کے وسیع تر مفاد میں دیکھا جائے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتاہے کہ انکم ٹیکس کی شرح کم یا زیادہ آمدنی کے تناسب سے نہیں مقرر کی گئی، سب سے خمس کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ریاست مدینہ کی خوشحالی کے پیچھے جنگی فتوحات کے دوران حاصل ہونے والے مال کا خمس(20فیصد)جیسی بھاری آمدنی تھی۔ حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو پاکستان میں منافع کا خمس ٹیکس کی شرح مقرر کی جائے تو کسی کو ٹیکس چوری کی حاجت نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ ایک رضاکارانہ مالی ادائیگی(عطیہ /اضافی ٹیکس) زکوٰۃ کے نام سے نافذہے۔ اس کی کوئی مقدار اور کوئی وقت قرآن نے مقرر نہیں کیا۔یہ فیصلہ حسب ضرورت اور حسب موقع دینے والے کوخود کرنا ہے کہ کتنی مالیت دی جائے۔اگر پاکستان میں خمس کا قرآنی قانون نافذ کر دیا جائے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ ملکی خزانے میں اتنی رقم آجائے گی جو متعدد انسدادی محکموں (اینٹی کرپشن،ریونیواورنیب) کی موجودگی میں جمع نہیں ہو رہی۔ آئی ایم ایف ایک سود خور ادارہ ہے، سود پرقرض دیتا ہے مگر سود کے علاوہ ایسی شرائط پر انگوٹھا لگواتا ہے کہ قرض لینے والاملک ہمیشہ اس کا محتاج رہے۔بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس کی پہلی شرط ہے۔اس شرط پر عمل کرنے کے بعد تمام صنعتی اور زرعی پیداوار کی قیمتوں میں خود بخود اضافہ مہنگائی کاایک طوفان اپنے ساتھ لے کر آتا ہے جو عوام کا جینا حرام کرنے کے لئے کافی ہے۔معیشت کی زبان میں اسے موذی چکر کہتے ہیں، جو ایک دفعہ اس میں پھنس گیا پھر زندگی بھر نکل نہیں سکتا۔سمجھدار عوام دوست حکومتیں آئی ایم ایف سے دور رہتی ہیں۔اپنے وسائل کو ترقی دے کرآئی ایم ایف کی معاشی غلامی سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان کی حکومتیں اپنی ناقص معاشی حکمت عملی کے باعث جس مقام پر لے آئی تھیں عوام اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔پی ٹی آئی اپنے اقتدار کی آدھی مدت گزار چکی ہے۔اس کے پاس اب کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔ہر قدم سوچ کر اٹھانا ہوگا، بصورت دیگر انتخابات میں عوام سے آنکھیں ملانا ممکن نہیں ہوگا۔


