کوئٹہ، شہر کے مختلف علاقوں میں بھکاریوں کی بھرمار
کوئٹہ:کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں بھکاریوں کی بھرمارہے، چھوٹے بچوں اورخواتین سمیت معمربھکاریوں نے شہریوں کاجینادوبھرکردیاہے،ضلعی انتظامیہ کے زیرانتظام انسدادگداگری سیل عرصہ درازسے غیر فعال ہے اورمتعلقہ حکام کسی کارروائی سے گریزاں ہے، شہریوں نے ڈپٹی کمشنرکوئٹہ سے مطالبہ کیاہے پیشہ وربھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے انہیں نجات دلائی جائے۔گرمیوں کے موسم کے آغازکے ساتھ ہی اندرون سندھ اورملک کے دیگرصوبوں سے پیشہ وربھکاریوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگرشہروں کارخ کرلیاہے۔ کوئٹہ میں مساجد، بازار، ہوٹلوں، تجارتی مراکز، پبلک پارک اورمقامات پرچھوٹے بچے اورخواتین سمیت معمربھکاریوں نے ڈیرے جمالئے ہیں اوربھیک مانگ کرمعززشہریوں کوتنگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کے لئے ہوٹلوں میں بیٹھنے سمیت بازاروں میں خریداری کرنابھی مشکل ہوگیا ہے، دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے زیرانتظام انسدادگداگری سیل بھی عرصہ درازسے غیر فعال ہے جس کو فعال بنانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے اورشہر میں ٹولیوں کی شکل میں گھومنے والے ان پیشہ وربھکاریوں کو کوئی پوچھنے والانہیں ہے اوروہ گھروں سمیت دکانوں اورروڈپرسفیدپوش اورمعززشہریوں اورخواتین کو روک کربھیک مانگتے ہیں جس سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں، عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنرکوئٹہ سے مطالبہ کیا کہ انسدادگداگری سیل کو فعال بناکرشہرمیں پیشہ وربھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے سخت اقدمات اٹھائے جائیں اورانہیں نجات دلائی جائے۔


