جامعہ تربت اور اوتھل میں طلبا کے ساتھ ناروا سلوک بلوچ کو تعلیم سے دور رکھنے کی منصوبے کا تسلسل ہے، بی ایس سی لاہور
لسبیلہ یونیورسٹی،اوتھل کی جانب سے احتجاج پر بیٹھے طلباء کو ہراساں کرنا جبکہ،تربت یونیورسٹی کی جانب سے طلباء کے امتحانی نتائج کے جاری کرنے میں تاخیر بلوچ طلباء کو تعلیم سے دور رکھنے کی دانستہ منصوبے کا تسلسل ہے۔ لاہور(پ،ر)۔بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل لاہور کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی،اوتھل کی جانب سے احتجاج پر بیٹھے طلباء کے ساتھ رواہ رکھا گیا رویہ انتہاہی تشویشناک جبکہ تربت یونیورسٹی کی جانب سے طلباء کے امتحانی نتائج کو جاری کرنے میں تاخیر باعث افسوس ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا لسبیلہ یونیورسٹی کے شعبہ ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے طلباء شعبہ کی انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف پیچھلے پانچ دنوں سے احتجاج پر ہیں، جامعہ انتظامیہ کی جانب سے جائز مطالبات کی شنوائی درکنار طلباء کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جائز مطالبات کے حل کے لئے احتجاج پر بیٹھے طلباء کو ہراساں کرنا جمہوری حقوق پر قدغن کے مترادف ہے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا بلوچستان اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کمی کا شکار ہیں۔انتہاہی قلیل تعداد میں موجود اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے مطلوبہ معیاری سہولیات کی عدم موجودگی طلباء کے تعلیمی سلسلے میں ایک مستقل رکاوٹ ہے تو وہی ان رکاوٹوں کے خلاف پرامن سیاسی جہدوجہد پر حکومتی اداروں اور ان کے اس گھناونے منصوبے میں شریک جامعات کے انتطامیہ کی جانب سے قدغن لگانا شہری حقوق کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا ایک دانستہ منصوبے کے تحت بلوچ طلباء کے تعلیمی سلسلے میں روکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہے۔ جس کے واضع مثال ہمیں جامعہ بلوچستان اسکینڈل و ماضی قریب میں بولان میڈیکل کالج و انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کی نجکاری کی کوششوں و زیر تعمیر سکندر یونیورسٹی کے بندش کی کوششوں سے ملتا ہے۔ جبکہ تربت یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بیچلر آف سائنس و آرٹس کے طلباء کے امتحانی نتائج جاری کرنے میں تاخیری حربوں کا استعمال اُسی منصوبے کا تسلسل ہے۔
بلوچ طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا ،بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل لاہور بلوچستان و بلوچستان سے باہر زیر تعلم بلوچ طلباء کے مسائل کے حوالے سے بلوچ طلباء کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں ترجمان نے بلوچستان حکومت سمیت لسبیلہ یونیورسٹی ،اوتھل و تربت یونیورسٹی کے انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ طلباء کے جائز مطالبات کو فوری حل کریں تاکہ بلوچ طلباء اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھ سکیں۔


