نوجوان صحافی کا قتل افسوس ناک ہے،ساجد ترین ایڈووکیٹ
سینئر قانون دان ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس معاشرے میں صحافیوں اور میڈیا کو محفوظ ماحول نہیں دیا جاتا اور وہ آزادانہ طور پر اپنے کام نہیں کرسکے تو اس معاشرے کا مستقبل تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ نوجوان صحافی عبدالواحد رئیسانی کا قتل انتہائی افسوسناک ہے اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہم نے پچھلے کچھ سالوں سے بہت سارے باصلاحیت صحافیوں کو کھویا ہے لیکن ایسے جرائم میں ملوث ایک بھی فرد کو آج تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے
ساجد ترین ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ یہ ہماری حکومت کی نااہلی ہے یا مجبوری کہ اس طرح کے جرائم کے بعد ایسے مجرم اتنی آسانی سے فرار ہوجاتے ہیں
لیکن بلوچستان کے وکلاء اس مشکل وقت میں اپنے صحافی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن فورم پر ان کے لئے آواز اٹھائیں گے
ساجد ترین نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں صحافی اور میڈیا ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کو کمزور کرنا معاشرے کو تباہ کرنے کے مترادف ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافی عبدالواحد رئیسانی کو شہید کرنے والے مجرموں کو جلد گرفتار کیا جائے اور یہ یقینی بنائے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں
ساجد ترین نے مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین اتحاد کی ضرورت پر زور دیا یہ کہتے ہوئے کہ یہ برا وقت کسی پر بھی آسکتا ہے چاہے وہ وکیل ہوں ، صحافی ہوں یا ڈاکٹر ہوں یا کوئی اور ہوں ، ہم سب کو اس طرح کے برے وقت میں ایک دوسرے کے لئے آواز اٹھانی چاہئے اور تب ہی ہم ایک محفوظ اور آزاد معاشرے کو دیکھ پائیں گے جہاں آپ کو سچ کہنے سے نہیں روکا جائے گا


