ہریانہ‘ ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں ایک مسلمان نوجوان قتل

نئی دلی:بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع مہوت سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان جم ٹرینر آصف خان کو ہندو بلوائیوں نے ”جئے شری رام“کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا اور بعدازاں اسے تشدد کر کے قتل کر دیاگیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آصف کے لواحقین نے میڈیا کو بتایاہے کہ وہ دوستوں کے ساتھ اپنے آبائی گاؤں خلیل پور سے سوہنا جا رہا تھاجب 15ہندوانتہا پسندغنڈوں نے ان کی کار روک کر مسافروں سے توہین آمیز سلوک کیا۔ آصف کے چچا حسن خان نے میڈیا کو بتایا کہ ہندو غنڈو ں نے چیخ کر کہا ”مسلمانوں کو مارو“اور اس کے بعد آصف کو تشدد کر کے قتل کردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ ابھی تک آصف کے کسی بھی قاتل کو گرفتار نہیں کیاجاسکا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندو انتہاپسندوں نے عقب سے گاڑی پر حملہ کیا جس میں آصف کے ساتھ 31سالہ راشد اور 22سالہ واصف بھی موجود تھے تاہم وہ زندہ بچ گئے اور راشد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے آصف کو پکڑ لیا اور اسے ”جئے شری رام“کا نعرہ لگانے پر مجبور کیااور تشدد کا نشانہ بنایا۔ آصف کی لاش ہریانہ کے علاقے سوہنہ کے نواح میں واقع ایک گاؤں نانگلی سے ملی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں