پاکستانی قیادت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ افغانستان میں امن کے معاشی فوائد ہیں، زلمے خلیل زاد
نیویارک : امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت دونوں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ افغانستان میں امن کے معاشی فوائد ہیں۔ایک انٹرویومیں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت دونوں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ افغانستان میں امن کے معاشی فوائد ہیں۔امریکی نمائندہ خصوصی نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جہاں مستقبل ہے وہیں معاشی فوائد ہیں، آرمی چیف نے کہا کہ ملک ترقی نہیں کرتے خطے ترقی کرتے ہیں۔زلمے خلیل زاد نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ پاکستان میں چیلنجز ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ آرمی چیف کا گزشتہ دورہ کابل مثبت تھا، انہوں نے ان اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جو دونوں فریقین اٹھائیں گے برطانیہ کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں تعاون کررہے ہیں۔انہوں نے پاک افغان تعلقات کو افغانستان کی حالیہ تاریخ کا نازک موڑ قرار دیا جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے اور حالیہ پیش رفتوں کے تناظر میں ہم پْر امید ہیں۔امریکی نمائندہ خصوصی نے اشرف غنی کا بیان علاقائی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اشرف غنی اس لحاظ سے ٹھیک ہیں کہ افغانستان میں دیرپا استحکام لانے کے امن معاہدے کے لیے یہ خطہ اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا علاقائی اتفاق رائے اور امن کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کررہا ہے اس لیے انہوں نے بار بار امن کی معاشی جہتوں کی اہمیت پر زور دیا۔زلمے خلیل زاد نے کہا کہ کسی کو افغانوں کو ان کی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ نہیں کرنا چاہیے، انہیں لازماً ایک دوسرے کو قبول کرنا چاہیے اور ایسا فارمولا تلاش کرنا چاہیے جو ان کے اختلافات دور کرے۔


