اسٹبلشمنٹ نےبلوچستان مختلف قبائلی پینل کے نام سے جعلی الکٹبلسز کی پینل تشکیل سازی شروع کردی ہے
مستونگ(انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ ملک کے جمہوریت اور جمہوری نظام ہمیشہ سیکورٹی اسٹبلشمنٹ کے زیر عتاب رہا اس لیئے جمہوریت کو ملک میں کھبی پنپنے نہیں دیا ہر الیکشن سے پہلے سیکورٹی اسٹبلشمنٹ ایک نئے نام اور نئے انداز سے راتوں رات مختلف غیر جمہوری اور غیر سیاسی قوتوں کو آگے لاکر سیاسی عمل کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات سے پہلے جس طرح بلوچستان کے سیاست میں راتوں رات سیکورٹی اسٹبلشمنٹ نے ایک نومولود بوٹ پالش باپ پارٹی کو بنا کرصوبے پر غیر جمہوری و غیر سیاسی لوگوں کو مسلط کیا جس کی خیمازہ آج بلوچستان کے عوام بھگت رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے چلے جانے کے بعد بلوچستان سے باپ پارٹی کا وجود اور نام ونشان نہیں رہے گا۔اور آنے والے انتخابات کے لیے ابھی سے اسٹبلشمنٹ نے مختلف قبائلی پینلوں کچھی خراسان، سراوان و جھالاوان کے نام سے جعلی الیکٹیبلز کی پینل کے تشکیل سازی شروع کردیا ہے۔ان جعلی الیکٹیبلز کو جیتوانے کے بعد دوسرے مرحلے میں وزیر اعلی کے نام سے ایک مجسمہ تیار کیا جائے گا اور پھر خلائی مخلوق کی جانب سے ان کو حکم دیا جائے گا کہ ان کو سجدہ کرو آپ سب لوگوں کی نجات دہندہ یہی ہے۔ میں مخلص سیاسی کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں جعلی و سلیکٹڈ الیکٹیبلز کا راست روک کر اپنی قومی وطن کی بقاء و تشخص کو مٹنے سے بچانے میں کردار ادا کرے۔بصورت دیگر تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دشت گونڈین میں میر ہمایوں عزیز کرد کے زرعی فارم پر صحافیوں سے خصوصی انٹرویو کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق وفاقی وزیر و بی این پی کے مرکزی رہنما میر ہمایوں عزیز کرد اور دیگر بھی موجود تھے۔ نوابزادہ میر حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ آج افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ سیکورٹی اسٹبلشمنٹ نہ صرف ہمارے سیاسی کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے بلکہ ہمارے قبائلی نظام میں مداخلت کرکے ہمارے آباو اجداد کے تاریخ اور تشخص کو بری طرح روند کر کسی کو سردار اور کسی کو نوابی کی دستار بندی کروا رہے ہیں جو کہ نیک شگون نہیں انہوں نے کہ یہ لوگ معمولی مراعات اور ایم پی اے ، ایم این اے اور سنیٹرز بننے کے لیئے جو صف بندی لگا دی ہے تاریخ اور بلوچ قوم انھیں کھبی معاف نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ پاکستان 14اگست 1947 کو بنایا گیا اس دن سے لیکر آج تک یہ ملک ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ کی حیثیت سے عالمی سامراج کی مزدوری کررہے ہیں جب کھبی جہموری پارٹیوں کے جہدوجہد سے تھوڑا بہت جہموریت آتی ہے تو اس کے فورا بعد جہموری قوتوں اور پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کے ذریعے سازش کرواتے ہیں۔اس بنیاد پر کہ ایک ریاست باقاعدہ طورپر تسلسل سے سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کے ذریعے اپنے پالیسوں کو آگے نہیں لے جاسکے۔عیاش پرست حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کی غیر جمہوری اقدامات کی وجہ سے آج یہ ملک بہت بڑے بحران سے گزار رہے ہیں۔موجودہ جعلی وزیراعظم عمران خان چند دن پہلے کہتے تھے کہ پاکستان اقتصادی بحران کے طرف جارہاہے کہ ہمیں عالمی اداروں کے قرضہ واپس نہیں کرنے سے معاشی بدحالی اور ایک بربادی کے طرف جارہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے پاکستان کا ریاست باقاعدہ طورپر پولٹیکل پارلیمانی پالیسوں کے تحت کام نہیں کی ہے اور یہ پالیسی کو جنرل ایوب اور اس سے پہلے کی طرح لے جارہے ہیں یقینا بہت سے آدمی رضاکار ہوتے ہیں کہ وہ وقتی اقتدار میں آئے اور اپنے دوستوں کے چھوٹے موٹے کام کرئے اور اقتدار کا مزہ لے اور باقاعدہ بڑے پالیسی ہمارے ملک میں اس لیے نہیں ہے پولٹیکل پارٹی انجیئرڈ ہوتے ہیں یا الیکشن انجیئرڈ ہوتے ہیں یا پولٹیکل پارٹیوں کو ریاست کام کرنے نہیں دیتے تاکہ پاکستان استحکام اور جہموری تسلسل سے آگئے گیا تو اس میں خوشحالی آئے گا اور عوام کی فکر و سوچ آزاد ہونگے اور عوام چھوٹے موٹے معاشی اور معاشرتی قانونی آئینی بحرانوں سے نکل کر جہموری کلچر جدید ٹیکنالوجی و علم کے طرف جائینگے اس لیے یہاں اسٹبلشمنٹ اس ملک کو بحران میں رکھنے کے لیے باقاعدہ پروگرام کرتے ہیں۔ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ مجے یہ انداز ہورہے ہیں کہ پاکستان ایک بین القوامی ہلچل کےطرف جارہے ہیں ظاہری طورپر عمران خان حکومت میں ہے لیکن عملی طورپر عمران خان کے حکومت ختم ہوئی ہے انکی حکومت کی بھاگ دوڑ کوئی اور چلا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جام حکومت اس بے اختیار و مصنوعی اقتدار کے بعد ختم ہونے کے بعد مکمل طورپر صفہ ہستی سے مٹ جائنگے۔اور نہ مستقبل میں باپ کی وجود باقی رہے گا۔اس لیے اسٹبلشمنٹ بلوچستان میں اس کے نعم البدل کچھی و خراسان جھالاون اور چاغی پینل کے نام سے پینلز تشکیل دے کر بلوچستان میں ایک نئی پروجیکٹ لانچ کر رہی ہے۔


