قومی اسمبلی اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر غیر معینہ مدت تک ملتوی
اسلام آباد :قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوتے ہی رکن اسمبلی شیخ فیاض نے کورم کی نشاندہی کردی جس کے سبب اجلاس کچھ دیر تک ملتوی رہا بعد میں کورم پورا ہونے پر کاروائی شروع ہوئی۔لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو دو ماہ سے بحال نہیں کیا پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا اداوں کو بحال کیا جائے ورنہ وزیر اعلیٰ پنجاب کیخلاف خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کارروائی کرسکتی ہے ۔
اجلاس کے دوران لاکھڑا ہاؤس اور کوٹری پاور ہاؤس جام شورو کے ملازمین کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈ لیگی رکن کھیل داس کوہستانی ، سکندر راہی پوٹو اور ڈاکٹر مہیش ملانی نے لہرادیے اور احتجاج کیا۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن آغارفیع اللہ نے دوسر بار کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کردی ،نشاندہی کے باوجود کارروائی جاری رکھی گئی اس دوران وزیر مملکت علی محمد خان نے نیب آرڈیننس میں 4 ماہ توسیع کی قرارداد پیش کی جسے منظور کرلیا گیا اپوزیشن نے شور شرابا کیا ۔
جاوید عباسی بولے اسپیکر صاحب آپ نے چھ بار ایسا کیا تاریخ میں کبھی کسی اسپیکر نے ایسا نہیں کیا اسپیکر اسد قیصر نے کہا کورم پوائنٹ آؤٹ نہیں ہوا تھا رکن نے نکتہ اعتراض پر بات کی آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد منظور ہونے کے بعد اسپیکر نے کورم کی نشاندہی کے حوالے سے گنتی کی ہدایت کی کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔اجلاس ملتوی ہوجانے کے سبب شہریوں کو لاپتہ کرنے والے کو 10 سال قید اور دیگر سزاوں کا بل قومی اسمبلی میں پیش نہ ہو سکا۔


