50فیصد خواتین کو سیٹلمنٹ کے عمل میں شامل نہ کرنے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر
کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اورجسٹس جناب جسٹس محمدکامران خان ملاخیل پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے سینئر قانون دان وہائی کورٹ بار کے سابق صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی خواتین کی50فیصد آبادی کو سیٹلمنٹ کے عمل میں شامل نہ کرنے کے خلاف پٹیشن کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے حکومت بلوچستان اور سینئر ایم بی آر کونوٹسز جاری کردئیے۔گزشتہ بلوچستان ہائی کورٹ بار کے سابق صدر وسینئر قانون دان ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے صوبے میں خواتین کی 50فیصد آبادی کو سیٹلمنٹ کے عمل میں شامل نہ کرنے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی جس میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ پاکستان کے آئین اور اسلام کے مطابق اور لینڈ ریونیو ایکٹ سیکشن42کے مطابق قانونی وارثین میں واضح طور پر خواتین کو والدین کے جائیداد میں وفات کے بعد حق دینے کا حکم دیاگیاہے،بلوچستان میں خواتین کی 50 آبادی کو سیٹلمنٹ کے عمل سے دور رکھنا ناانصافی اورقانون کی خلاف ورزی ہے اسلام نے خواتین کو یہ حق دیا ہے اور ہمارے نبی ﷺنے بھی خواتین کو ان کے حقوق دینے کا درس دیاہے،بدقسمتی سے ابھی تک 50فیصد خواتین آبادی کو بھی سیٹلمنٹ کے عمل میں شامل نہیں کیا گیادرخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عالیہ حکومت بلوچستان کو خواتین کی 50فیصد آبادی کو سیٹلمنٹ کے عمل میں شامل کرنے کیلئے احکامات دیں۔چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمدکامران خان ملاخیل پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے آئینی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے حکومت بلوچستان اور سینئر ایم بی آر کو نوٹسز جاری کرنے کاحکم دیدیااور ریمارکس دئیے کہ اس سلسلے میں نادرا سے مدد لی جائیں اور ب فارم فیملی ٹری کے ذریعے درست ویری فکیشن کرکے والدین کی فوتگی کے بعد خاندان کے افراد کے مطابق جائیداد تقسیم کی جائیں۔بعدازاں بینچ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔


