بلوچستان اسمبلی نے اگلے مالی سال کے 570ارب روپے سے زائد کے بجٹ کی منظوری دے دی

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر) بلوچستان اسمبلی نے اگلے مالی سال2021-22ء کے 570ارب روپے سے زائد کے بجٹ کی منظوری دے دی۔ اپوزیشن ارکان کا بائیکاٹ بدستور جاری رہا، کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں ہوئی۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت ایک گھنٹہ بیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے سانگان میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں پر حملے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سپیکر سے استدعا کی کہ واقعے میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی جائے جس پر ایوان میں فاتحہ خوانی کی گئی۔ اس موقع پر سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ایوان کی خوبصورتی حکومتی اور اپوزیشن اراکین دونوں کی وجہ سے ہوتی ہے بہت بہتر ہوتا کہ آج کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان بھی شریک ہوتے اس موقع پر انہوں نے وزیر داخلہ و قبائلی امور میر ضیاء اللہ لانگو سے اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت سے ایوان کو آگاہ کرنے کو کہا جس پر وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ 18جون کو بلوچستان اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے موقع پر جو واقعہ پیش آیا اس کے بعد پولیس کو واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی لیکن اگلے روز اپوزیشن ارکان ازخود جا کر تھانے میں بیٹھ گئے۔ جن سے دو بار مذاکرات ہوئے بحیثیت وزیر داخلہ میں اور دیگر وزراء و ارکان اسمبلی اپوزیشن اراکین کے پاس گئے ان کا مطالبہ تھا کہ یا تو انہیں گرفتار کیا جائے یا ایف آئی آر واپس لی جائے جس کے بعد مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوئی جس پر سپیکر نے کہا کہ اٹھارہ جون کو بلوچستان اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اپوزیشن ارکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی بطور اسمبلی کے کسٹوڈین اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں اس موقع پر انہوں نے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ چیف سیکرٹری کو مراسلہ تحریر کریں کہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کواپوزیشن ارکان کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے سے متعلق سمری ارسال کریں۔ اجلاس میں اگلے مالی سال 2021-22ء کے سلسلے میں اسٹیٹ ٹریڈنگ (ووٹڈ)کے لئے 5ارب67کروڑ95لاکھ، کیپٹل انویسٹمنٹ کی مد میں 14ارب5کروڑ روپے،سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی مد میں 3ارب43کروڑ 28لاکھ76ہزار،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹیکس کی مد میں 29کروڑ84لاکھ82ہزار،Stampsکی مد میں 30لاکھ55ہزار، ایمپلائی ریٹائرمنٹ بینیفٹس کی مد میں 46ارب68کروڑ48لاکھ،ایڈمنسٹریشن آف جسٹس(ووٹڈ) کی مد میں 2ارب75کروڑ21لاکھ4ہزار،بلوچستان پولیس کے لئے23ارب34کروڑ86لاکھ13ہزار ایک سو، بلوچستان لیویز کی مد میں 12ارب95کروڑ75لاکھ66ہزار،جیل و قید وبند مقامات کے سلسلے میں ایک ارب88کروڑ9لاکھ58ہزار،سول ڈیفنس کی مد میں 21کرور92لاکھ38ہزار،کمیونیکشن کی مد میں 6ارب74کروڑ76لاکھ73ہزار،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لئے 5ارب75کروڑ19لاکھ56ہزار، بی واسا کی مد میں ایک ارب65کروڑ75لاکھ32ہزار، کالجز، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مد میں 11ارب73کروڑ64لاکھ33ہزار،آرکیالوجی، میوزیم اینڈ لائبریریز کی مد میں 56کروڑ3لاکھ64ہزار، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ یئر ڈیپارٹمنٹ کے لئے 19ارب60کروڑ6لاکھ95ہزار،پاپولیشن ویلفیئر کی مد میں ایک ارب22کروڑ53لاکھ،لیبر اینڈ مین پاور کے لئے 2ارب30کروڑ86لاکھ 28ہزار، سپورٹس، ریکریشن اینڈ یوتھ افیئرزکی مد میں ایک ارب49کروڑ48لاکھ70ہزار،سوشل ویلفیئراینڈ سپیشل ایجوکیشن کے لئے2ارب22کروڑ63لاکھ 64ہزار9سو،پی ڈی ایم اے کے لئے ایک ارب18کروڑ،مذہبی امور کے لئے 84کروڑ69لاکھ،8ہزار5سو28،خوراک کی مد میں 72کروڑ12لاکھ73ہزار،زراعت کی مد میں 10ارب59کروڑ47لاکھ،34ہزار،لینڈ ریونیو کی مد میں 33کروڑ2لاکھ 28ہزار، لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کی مد میں 4ارب ارب52کروڑ62لاکھ46ہزار، جنگلات و جنگلی حیات کی مد میں ایک ارب54کروڑ ایک لاکھ94ہزار، ماہی گیری کی مد میں ایک ارب16کروڑ75لاکھ58ہزار روپے،Cooperativesکی مد میں 20کروڑ43لاکھ85ہزار،ایری گیشن کی مد میں 3ارب15کروڑ34لاکھ86ہزار،لوکل گورنمنٹ و رورل ڈویلپمنٹ کی مد میں 18ارب26کروڑ14لاکھ24ہزار، انڈسٹریز کی مد میں ایک ارب92کروڑ13لاکھ24ہزار تین سو83، اسٹیشنری اینڈ پرنٹنگ کی مد میں 15کروڑ42لاکھ97ہزار، مائنز اینڈ منرل ڈویلپمنٹ کی مد میں 3ارب 76کروڑ73لاکھ19ہزار، لون اینڈ سبسڈیز کی مد میں 68کروڑ45لاکھ 10ہزار، پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی مد مٗں 43کروڑ93لاکھ7ہزار، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 50کروڑ92لاکھ26ہزار4سو70، سیکنڈری ایجوکیشن کی مد میں 53ارب25کروڑ63لاکھ80ہزار7سو،اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمں ٹ کی مد میں 25ارب9کروڑ28لاکھ63ہزار8سو25روپے، کلچر سروسز کی مد میں 49کروڑ12لاکھ 24ہزار ایک سو، قانون و پارلیمانی امور کی مد میں 64کروڑ41لاکھ57ہزار روپے،وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 31کروڑ25لاکھ49ہزار، بلوچستان کانسٹیبلری کی مد میں 5ارب80کروڑ32لاکھ،10ہزار4سو48،انرجی ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 7ارب25کروڑ98لاکھ 40ہزار، انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 45کروڑ72لاکھ45ہزار،انوائرمنٹ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 53کروڑ84لاکھ70ہزار،صوبائی محتسب کی مد میں 29کروڑ35لاکھ59ہزار،وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی مد میں 73کروڑ27لاکھ67ہزار،محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی مد میں 2ارب81کروڑ48لاکھ39ہزار، بورڈ آف ریونیو اینڈ ایڈمنسٹریشن کی مد میں 4ارب17کروڑ90لاکھ61ہزار، محکمہ خزانہ کی مد میں 5ارب8کروڑ4لاکھ78ہزار6سو، اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 31کروڑ79لاکھ46ہزار،محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی مد میں ایک ارب38کروڑ16لاکھ17ہزار،محکمہ اطلاعات کی مد میں 67کروڑ48لاکھ49ہزار، انٹر پراونشل کوآرڈی نیشن ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 6کروڑ57لاکھ49ہزار، وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کی مد میں 22کروڑ58لاکھ7ہزار، گورنر سیکرٹریٹ(ووٹڈ) کی مد میں 4کروڑ78لاکھ70ہزار، صوبائی اسمبلی (ووٹڈ) کی مد میں 18کروڑ95لاکھ32ہزار روپے،محکمہ اقلیتی امور کی مد میں 29کروڑ55لاکھ94ہزار، بلڈنگ فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کی مد میں 7ارب4کروڑ53لاکھ44ہزارروپے جبکہ ترقیاتی اخراجات سے متعلق سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی مد میں 2ارب12کروڑ98لاکھ28ہزار، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 6کروڑ، کمیونکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 44ارب85کروڑ9لاکھ62ہزار،پبلک ہیلتھ سروسز ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 14ارب49کروڑ95لاکھ25ہزار،کالجز ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مد میں 9ارب46کروڑ97لاکھ، محکمہ صحت کی مد میں 11ارب88کروڑ36لاکھ96ہزار،محکمہ بہبود آبادی کی مد میں 10کروڑ، لیبر اینڈ مین پاور ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 38کروڑ46لاکھ69ہزار، سپورٹس اینڈ ریکریشن ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 5ارب67کروڑ32لاکھ73ہزار،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 98کروڑ81لاکھ80ہزار،پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی مد میں 68کروڑایک لاکھ، محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی مد میں 33کروڑ43لاکھ86ہزار، محکمہ خوراک کی
مد میں 38کروڑ،40لاکھ،56ہزار، محکمہ زراعت کی مد میں 9ارب54کروڑ57لاکھ69ہزار،لائیوسٹاک ڈپارٹمنٹ کی مد میں 2ارب10کروڑ13لاکھ4ہزار،محکمہ جنگلات کی مد میں ایک ارب99کروڑ،7لاکھ81ہزار، محکمہ ماہی گیری کی مد میں 3ارب50کروڑ23لاکھ7ہزار، ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 12ارب2کروڑ57لاکھ93ہزار، لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کی مد میں 4ارب35کروڑ79لاکھ 93ہزار، انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ کی مد میں ایک ارب6کروڑ51لاکھ55ہزار، مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کی مد میں ایک ارب49کروڑ63لاکھ 68ہزار، سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 8ارب46کروڑ 27لاکھ48ہزار، کلچر ٹورازم اینڈ آرکائیوز ڈیپارٹمنٹ کی مد میں ایک ارب 54کروڑ 19لاکھ98ہزار، وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 62کروڑ70ہزار، انر جی ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 3ارب92کروڑ27لاکھ17ہزار، سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مد میں 2ارب36کروڑ62لاکھ10ہزار، محکمہ ماحولیات کی مد میں 21کروڑ71لاکھ18ہزار روپے، اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 3ارب8کروڑ92لاکھ30ہزار، محکمہ داخلہ کی مد میں ایک ارب54کروڑ50لاکھ91ہزار، بورڈ آف ریونیو کی مد میں 87کروڑ36لاکھ58ہزار، محکمہ خزانہ کی مد میں ایک لاکھ روپے، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی مد میں 68کروڑ22لاکھ5ہزار، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 6ارب97کروڑ20لاکھ99ہزار،گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی مد میں 90کروڑ، فارن فنڈڈ پراجیکٹس کے لئے 16ارب66کروڑ19لاکھ70ہزار، فیڈرل فنڈڈ پراجیکٹس کے لئے48ارب2کروڑ52لاکھ89ہزار روپے، بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی مد میں ایک ارب97کروڑ5لاکھ90ہزار، ملٹی ڈیپارٹمنٹل سکیمز کی مد میں 10ارب70کروڑ48لاکھ28ہزار، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی مد میں 14کروڑ روپے، محکمہ اطلاعات کی مد میں 29کروڑ روپے، اقلیتی امور کی مد میں 71کروڑ15لاکھ روپے کے مجموعی طور پر 102مطالبات زر پیش کئے جن کی ایوان نے فرداً فرداً منظوری دی۔ اجلاس میں وزیر خزانہ نے بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون مصدرہ2021(مسودہ قانون نمبر19مصدر2021) ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے متفقہ طو رپر منظوری دی اور بعدازاں سپیکر نے اجلاس آج بروز ہفتہ صبح گیارہ بجے تک ملتوی کرنے کی رولنگ دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں