متحدہ اپوزیشن جماعتوں نے عثمان کاکڑ کے ساتھ پیش آ نے والے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)متحدہ اپوزیشن میں شامل جما عتوں کے رہنما ؤں نے اپوزیشن جما عتوں کے اراکین نے اپوزیشن جماعتوں کی جا نب سے اسمبلی کے تقدس کی پا ما لی کے حکومتی الزام کو مسترد کر تے ہو ئے کہا ہے کہ بجٹ اجلاس کے موقع پر اپوزیشن اراکین اسمبلی کو بکتر بند گاڑی سے کچلنے کی کو شش کی گئی جس پر وزیر اعلیٰ بلو چستان و دیگر ذمہ داران کے خلا ف مقدمہ درج کیا جا ئے، 500ارب روپے کے بجٹ کو کسی صورت کرپشن کی نذر نہیں ہو نے دیں گے نا ہی غیر منتخب نما ئندوں کے ذریعے ترقیاتی منصوبے کیلئے فنڈز کے استعما ل کی کسی کو اجازت دی جا ئے گی کا میاب شٹر ڈاؤن ہڑتال نے ثابت کر دیا کہ صو بے کی عوام اور تا جر صو با ئی حکومت سے سخت نالاں ہیں ایک طرف صو بے میں عوام تمام تر بنیا دی ضروریات زندگی اور سہولیات سے محروم ہیں تو دوسری جا نب نا اہل صو با ئی حکومت کی وجہ سے 40ارب روپے کے فنڈز لیپس ہو کر وفاق کو واپس ہو گئے۔متحدہ اپوزیشن میں شامل جما عتیں پشتونخوا میپ کے مر کزی سیکرٹری صو با ئی صدر و سابق سینیٹر محمد عثمان کا کڑ کے ساتھ پیش آ نے والے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا بھی مطا لبہ کر تی ہیں۔ان خیا لا ت کا اظہار جمعیت علما ء اسلام کے مر کزی رہنما ء و سینیٹر مو لانا عبدالغفور حیدری،صو با ئی امیر و رکن قومی اسمبلی مو لا نا عبدالواسع،بلو چستان نیشنل پا رٹی کے مر کزی رہنما ء ملک عبدالولی کا کڑ،پشتونخوا ملی عوامی پا رٹی کے رکن صو با ئی اسمبلی نصر اللہ زیرے، پا کستان مسلم لیگ (ن) کے صو با ئی صدر جمال شاہ کاکڑ،جمعیت علما ء اسلام ضلع کو ئٹہ کے امیر مو لا نا عبدالرحمٰن رفیق، ایم پی اے میر یو نس زہری، بی این پی کے عبدالرؤف مینگل، مو سیٰ بلو چ، پشتونخوا میپ کے،احمد جان،حضرت عمر اچکزئی و دیگر نے جمعہ کے روز کو ئٹہ میں متحدہ اپوزیشن میں شامل جما عتوں کی جا نب سے منا ن چو ک پر ہو نے والے احتجاجی مظا ہرے سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مو جو دہ صو با ئی سلیکٹڈ حکمرا نوں کے نا روا سلوک اور اپوزیشن کو دیوار سے لگا نے اور منتخب نما ئندوں کو گاڑی سے کچلنے کی سعی کے خلا ف آ ج جمعہ کو تا جروں اور عوام نے صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ میں شٹرڈاؤن ہڑتال کے دوران کاروبار بند کرکے اپوزیشن جما عتوں کا بھر پور ساتھ دیا ہے بلکہ یہ مو جو دہ حکمرا نوں کے خلا ف ریفرنڈم اور حکومتی پالیسیوں سے عملی طور پر اپنے بے زاری کا ثبوت ہے گزشتہ تین سالوں سے صوبائی حکومت نے اپنے اقتدار کو طول دینے،مراعات و مفادات کے حصول کیلئے تمام اداروں کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے حکمرانوں کویہاں کے عوام کی نہیں بلکہ اپنے مفادات کی فکر لاحق ہے،انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کے جا ئز مطا لبات اورضروریات کا خیال رکھا جا تا ہے لیکن یہاں پر تو عوام کی با ت کر نے والے اراکین اسمبلی کو بند کر دیا گیا ہے عثمان خان کا کڑ کی شہادت پر جو ردعمل سامنے آ یا وہ ان قوتوں کے خلا ف تھا جنہوں نے انہیں شہید کیا۔حکومت نے سوچے سمجھے منصو بے کے تحت اراکین اسمبلی کو قتل کرنے کا منصو بہ بنا یا تھا اور ان پر بکتر بند گاڑی چڑھا دی تھی جب کہ اس کے بر عکس ہما رے کا رکنوں نے صرف نعرہ با زی کی ہم پا نچ سو ارب کے بجٹ کو کرپشن کی نذر نہیں ہو نے دیں گے آج پانچ دن ہو گئے ہیں ہما رے اراکین اسمبلی پولیس اسٹیشن میں بیٹھے ہیں وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ ہم جرگہ بلا ئیں گے اگر ایسی با ت ہے تو ہم بھی جر گہ بلا ئیں گے اور اپنے ساتھ ہو نے والے سلوک کا بدلہ لیں گے۔مقررین نے کہا کہ اب بلو چستان بھر میں یہ احتجاج ہو رہا ہے اور اس نے ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی ہے تحریک کو منزل تک پہنچا کر ہم دم لیں گے، انہوں نے جا م حکومت کی اپوزیشن کے خلا ف ایف آ ئی آر کے اندراج کی مذمت کی اور کہا کہ یہ محض انتقامی کا رروائی کے سوا کچھ نہیں ایک طرف جا م کما ل اور دیگر کے کہنے پر اپوزیشن اراکین اسمبلی اور ان کے کا رکنوں کو گاڑی سے کچلنے کی کو شش کی گئی اور دوسری جا نب الٹا ایف آ ئی آ ر بھی اپوزیشن رہنما ؤں کے خلا ف چاق کی گئی جبکہ ہما رے وزیر اعلیٰ و دیگر کے خلا ف مقدمہ کے اندراج کیلئے دی جا نے والی تین درخواستوں پر کو ئی عمل در آ مد نہیں کیا جا سکا ہے جو قابل حیرت ہے اسی لئے ہم عدالت سے رجوع کر نے پر مجبور ہو ئے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ آزاد عدلیہ ہمیں انصاف فرا ہم کر ے گی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جما عتیں حکومت کے خلا ف سراپا احتجاج ہیں، ایسے حا لا ت میں جب صو بے کی عوام تمام تر بنیا دی ضروریات سے محروم ہیں میں حکمرا نوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے چالیس ارب روپے لیپس ہو ئے ہیں، اپوزیشن جما عتوں کے حلقوں کو مسلسل نظر انداز کئے جا نے کے خلا ف ہم نے صو با ئی اسمبلی کے باہر جمہوری دھرنا دیا اور بجٹ اجلاس کے موقع پر احتجاج کیا تو ہما رے خلا ف مقدمہ درج کیا گیا اس وقت نااہل حکمران عوامی سپورٹ سے مِِحروم ہیں عوام اور میڈیا ہما را ساتھ دے اور نا اہل حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے طوفان نے عوام کو بے حال کردیا ہے،اپوزیشن پر اسمبلی کا تقدس پامال کرنے کے الزام میں کوئی صداقت نہیں،اپوزیشن جما عتوں کے اراکین اسمبلی گزشتہ پانچ دنوں سے تھانے میں موجود ہے مگر حکومت انہیں گرفتار نہیں کررہی،وزیر اعلیٰ و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر کے جمعیت علما ء اسلام کے مر کزی رہنما ء مفتی کفایت اللہ کو رہا کیا جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنے حلقے سے قومی اسمبلی کا انتخاب ہار چکے ہیں ہمیں اعتماد میں لینے کی بجائے جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ 500ارب روپے کے بجٹ کو کسی صورت کرپشن کی نذر نہیں ہو نے دیں گے نا ہی غیر منتخب نما ئندوں کے ذریعے ترقیاتی منصوبے کیلئے فنڈز کے استعما ل کی کسی کو اجازت دی جا ئے گی کا میاب شٹر ڈاؤن ہڑتال نے ثابت کر دیا کہ صو بے کی عوام اور تا جر صو با ئی حکومت سے سخت نالاں ہیں مقررین نے پشتونخواہ میپ کے مرکزی سیکرٹری صو با ئی صدر و سابق سینیٹر محمد عثمان کا کڑ کو شہید کیا گیا ہے جس کے سیاسی خد ما ت کا ہر مکتبہ فکر اعتراف کررہا ہے انہوں نے محمد عثمان کاکڑ کے ساتھ پیش آ نے والے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا بھی مطا لبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں