بلوچستان کی احساس محرومی حکمرانوں کی روش تبدیل کرنے سے ختم ہوگی، آغا حسن بلوچ

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی احساس محرومی اُ س وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک حکمران اپنی روش تبدیل نہ کریں ستم ظریفی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے اراکین آج بھی سٹی تھانے میں پابند سلاسل ہیں ان کا گناہ یہ ہے کہ اپنے علاقے کے اجتماعی قومی مفاد کی بات کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار آغا حسن بلوچ نے قومی اسمبلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے روز اول سے کہا ہے کہ ملک میں بلا رنگ ونسل تمام اداروں کااحتساب ہونا چاہیے بلوچستان میں پاکستان تحریک انصاف حکومت میں شامل ہے ستم ظریفی ہے کہ آج بلوچستان نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نواب اسلم رئیسانی بلوچستان کے متحدہ اپوزیشن ہے انہوں نے پرامن طریقے سے احتجاج کیا لیکن نام نہاد جمہوری حکمرانوں نے ایف آئی آر درج کرکے متحدہ اپوزیشن کے اراکین کو پابند سلاسل کردیا ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بلوچستان میں جمہوری سوچ کو پروان چڑھائے اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے کہے کہ یہاں آمریت نہیں جمہوریت ہے اگر کوئی رکن اپنے علاقے کے اجتماعی قومی مفاد کی بات کرتا ہے اس کو سنا جائے نہ کہ نظرانداز کیا جائے انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے کہتے ہیں کہ گیم چینجرہے اور پورے خطے میں معاشی بدحالی ختم کرے گا مگر گوادر کا ایم پی اے آج کوئٹہ تھانے میں بند ہے انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے سکالر شپ دیئے ہیں لیکن سکالر شپ کو ختم کردیاگیا جعلی ڈومسائل پر بلوچستان کے بلوچ، پشتون، پنجابیوں کو نظرانداز کیا جارہاہے بلوچستان کی احساس محرومی بدحالی اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک حکمران اپنے روش کو تبدیل نہیں کرتے وفاقی حکومت بلوچستان کے نام نہاد حکومت کو لگام دے تاکہ اراکین بلوچستان اسمبلی کے ساتھ ناانصافی بند ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں