جام کمال کے اعتراف کے بعد کہ بجٹ کا انہیں بھی علم نہیں تھا ان کی کٹھ پتلی ہونے کی نشانی ہے، مولانا عبدالواسع
کوئٹہ: جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی و رکن قومی امیر مولانا عبد الواسع نے کہا ہے کہ جام کمال کے اس اعتراف کے بعد کہ اسے خود بلوچستان کے بجٹ کاعلم نہیں تھا سے اپوزیشن کے بجٹ بارے موقف کی تائید ہوئی کے، اپوزیشن نے ایسا بجٹ پہلے تسلیم کیا ہے نا ہی آئندہ کرے گی عوام کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ جام حکومت کتنی باصلاحیت ہے، بجٹ میں بلوچستان کے عوامی مفادات کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا بجٹ کٹھ پتلیوں کو نوازنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ 5سوارب روپے کے بجٹ کے دستاویزات کی منظوری ان افراد پر مشتمل کابینہ نے دی ہے جو اردو میں لکھے ہوئے تحریرتک نہیں پڑھ سکتے وہ لوگ بجٹ اصطلاحات کے باریکی اور پیچیدگیاں کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جماعت کے ذمہ داران سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ترتیب دئیے گئے بجٹ کو اپوزیشن جوتے کی نوک پر رکھتی ہے بلکہ ہم اسیعوامی بجٹ کسی صورت تسلیم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کے حلقوں کو نظر انداز کرنے، غیر منتخب افراد کو نوازنے کے خلاف میدان عمل میں نکلیں گے کیونکہ مذکورہ بجٹ صرف چند عناصر کی خوشنودی کے لئے بنایا گیا ہے، جام کمال حکومت فنڈز کو غیر منتخب نمائندوں کے ذریعے تقسیم کرکے اربوں روپے کرپشن کرنا چاہتی ہے جس کی ہم ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان وفاقی پارلیمانی نظام جمہوریت ختم کرکے ملک میں صدارتی نظام مسلط کرنے کے درپیہیں، یہ ترامیم قائد اعظم کی سیاسی ونظریاتی فکر، سپریم کورٹ کے فیصلوں، آئین کے بنیادی ڈھانچے اور تصورکے خلاف ہیں،انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم چاہتا ہے کہ 22 کروڑ عوام سے حق رائے دہی لیکر مخصوص افراد کے الیکٹورل کالج کو سیاہ وسفید کا مالک بنا دیا جائے، وہ الیکشن کمیشن کے آئینی اختیارات چھین کرپاکستان کو بنانا ری پبلک بنانا چاہتے ہیں یہ قانون نہیں بلکہ انتخابی دھاندلی کا قومی منصوبہ ہے، آرٹی ایس ایم کی پیداوار حکومت عوامی ووٹ سے جان چھڑانا چاہتی ہے، ان ترامیم کے بعد حکومت خود الیکشن کمیشن بن کرالیکشن کرائیگی۔


